Friday, 19 November 2021

سچا دکھائی دے کبھی جھوٹا دکھائی دے

 سچا دکھائی دے کبھی جھوٹا دکھائی دے

ہنستا دکھائی دے کبھی روتا دکھائی دے

مجھ کو تو اس کا روپ روپہلا دکھائی دے

امید ہے کہ پھر وہ دوبارہ دکھائی دے

ہونٹوں سے اس کے پھول جھڑیں بات جب کرے

اور گال اس کا روئی کا گالا دکھائی دے

ہم نے تو عاشقی پہ لگا دی متاعِ جاں

بدلے میں حسن خود میں سمٹتا دکھائی دے

پھولوں کی طرح حسنِ دلآویز ہے صنم

پھولوں کی طرح ہی وہ مہکتا دکھائی دے

جب گنگنائے مطربِ رنگیں نوا ہے وہ

شعلہ بیاں خطیب بھی پُتلا دکھائی دے

کنکر بھی لے جو ہاتھوں میں ناز و ادا کے ساتھ

نو لاکھ موتیوں کی وہ مالا دکھائی دے

کرتا ہوں اس کے ہوتے بھی میں اس کا انتظار

جانے وہ کن خیالوں میں کھویا دکھائی دے

رخ سے ذرا نقاب ہٹا لے جو وہ ندیم

پھر چودھویں کا چاند بھی بُجھتا دکھائی دے


ندیم مراد

No comments:

Post a Comment