سچا دکھائی دے کبھی جھوٹا دکھائی دے
ہنستا دکھائی دے کبھی روتا دکھائی دے
مجھ کو تو اس کا روپ روپہلا دکھائی دے
امید ہے کہ پھر وہ دوبارہ دکھائی دے
ہونٹوں سے اس کے پھول جھڑیں بات جب کرے
اور گال اس کا روئی کا گالا دکھائی دے
ہم نے تو عاشقی پہ لگا دی متاعِ جاں
بدلے میں حسن خود میں سمٹتا دکھائی دے
پھولوں کی طرح حسنِ دلآویز ہے صنم
پھولوں کی طرح ہی وہ مہکتا دکھائی دے
جب گنگنائے مطربِ رنگیں نوا ہے وہ
شعلہ بیاں خطیب بھی پُتلا دکھائی دے
کنکر بھی لے جو ہاتھوں میں ناز و ادا کے ساتھ
نو لاکھ موتیوں کی وہ مالا دکھائی دے
کرتا ہوں اس کے ہوتے بھی میں اس کا انتظار
جانے وہ کن خیالوں میں کھویا دکھائی دے
رخ سے ذرا نقاب ہٹا لے جو وہ ندیم
پھر چودھویں کا چاند بھی بُجھتا دکھائی دے
ندیم مراد
No comments:
Post a Comment