رات کٹ جائے گى سرکار یقیں ہے ہم کو
پهر سحر ہو گى نمودار، یقیں ہے ہم کو
دل میں نفرت کى جو دیوار اُٹھائی اُس نے
ہم گِرا دیں گے وہ دیوار، یقیں ہے ہم کو
رنج مِٹ جائیں گے خوشیوں کا سماں لوٹے گا
پهر زمیں ہو گى یہ گُلزار، یقیں ہے ہم کو
رات کٹ جائے گى سرکار یقیں ہے ہم کو
پهر سحر ہو گى نمودار، یقیں ہے ہم کو
دل میں نفرت کى جو دیوار اُٹھائی اُس نے
ہم گِرا دیں گے وہ دیوار، یقیں ہے ہم کو
رنج مِٹ جائیں گے خوشیوں کا سماں لوٹے گا
پهر زمیں ہو گى یہ گُلزار، یقیں ہے ہم کو
رُوٹھنا تو فقط بہانہ تھا
آپ کا ظرف آزمانا تھا
غیر کو پا کے مُجھ کو بُھول گیا
جس سے رشتہ مِرا پرانا تھا
میں اُسے یاد کر رہی تھی سدا
’ورنہ اُس نے تو بُھول جانا تھا‘
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے خُدا سرورِ کونینؐ کا روضہ دیکھوں
ہے تمنّا مِرے دل میں؛ کہ مدینہ دیکھوں
چُوم لوں چشمِ عقیدت سے درِ آقاﷺ کو
چشمِ آداب سے میں گُنبدِ خضرا دیکھوں
جبکہ ہو پیشِ نظر میرے سُنہری جالی
دیر تک کیوں نہ میں منظر وہ سُہانا دیکھوں
ہماری زندگی پر زندگی اب ناز کرتی ہے
ہُوئے تم دوست ایسے دوستی اب ناز کرتی ہے
تمہارے حُسن پر اب ہو گیا خود آئینہ شیدا
تمہاری سادگی پر سادگی اب ناز کرتی ہے
نہ کچھ بھی کہ کے سب کچھ کہ دیا خاموش آنکھوں نے
تمہاری گُفتگو پر خامشی اب ناز کرتی ہے