Showing posts with label بشریٰ سحر. Show all posts
Showing posts with label بشریٰ سحر. Show all posts

Saturday, 2 March 2024

رات کٹ جائے گى سرکار یقیں ہے ہم کو

 رات کٹ جائے گى سرکار یقیں ہے ہم کو

پهر سحر ہو گى نمودار، یقیں ہے ہم کو

دل میں نفرت کى جو دیوار اُٹھائی اُس نے

ہم گِرا دیں گے وہ دیوار، یقیں ہے ہم کو

رنج مِٹ جائیں گے خوشیوں کا سماں لوٹے گا

پهر زمیں ہو گى یہ گُلزار، یقیں ہے ہم کو

Sunday, 14 January 2024

روٹھنا تو فقط بہانہ تھا

 رُوٹھنا تو فقط بہانہ تھا

آپ کا ظرف آزمانا تھا

غیر کو پا کے مُجھ کو بُھول گیا

جس سے رشتہ مِرا پرانا تھا

میں اُسے یاد کر رہی تھی سدا

’ورنہ اُس نے تو بُھول جانا تھا‘

Tuesday, 19 December 2023

اے خدا سرور کونین کا روضہ دیکھوں

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے خُدا سرورِ کونینؐ کا روضہ دیکھوں

ہے تمنّا مِرے دل میں؛ کہ مدینہ دیکھوں

چُوم لوں چشمِ عقیدت سے درِ آقاﷺ کو

چشمِ آداب سے میں گُنبدِ خضرا دیکھوں

جبکہ ہو پیشِ نظر میرے سُنہری جالی

دیر تک کیوں نہ میں منظر وہ سُہانا دیکھوں

Friday, 16 April 2021

ہماری زندگی پر زندگی اب ناز کرتی ہے

ہماری زندگی پر زندگی اب ناز کرتی ہے

ہُوئے تم دوست ایسے دوستی اب ناز کرتی ہے

تمہارے حُسن پر اب ہو گیا خود آئینہ شیدا

تمہاری سادگی پر سادگی اب ناز کرتی ہے

نہ کچھ بھی کہ کے سب کچھ کہ دیا خاموش آنکھوں نے

تمہاری گُفتگو پر خامشی اب ناز کرتی ہے