ہماری زندگی پر زندگی اب ناز کرتی ہے
ہُوئے تم دوست ایسے دوستی اب ناز کرتی ہے
تمہارے حُسن پر اب ہو گیا خود آئینہ شیدا
تمہاری سادگی پر سادگی اب ناز کرتی ہے
نہ کچھ بھی کہ کے سب کچھ کہ دیا خاموش آنکھوں نے
تمہاری گُفتگو پر خامشی اب ناز کرتی ہے
غموں کی دُھوپ کی شِدّت سے جو مُرجھایا رہتا تھا
تِرے چہرے پہ گُل کی تازگی اب ناز کرتی ہے
نہ کوئی دوست تھا اپنا نہ کوئی اپنا ہمدم تھا
تمہاری دلبری پر دلبری اب ناز کرتی ہے
غزل بشریٰ سحؔر کی سُن کے یہ اہلِ سخن بولے
تمہاری شاعری پر شاعری اب ناز کرتی ہے
بشریٰ سحر
No comments:
Post a Comment