آج بھی تم کتنے سچے ہو
حیرت ہے زندہ کیسے ہو
جھُوٹوں پر پھٹکار خُدا کی
چُپ رہ کر بھی کہہ لیتے ہو
دُنیا بیعت کر کے خُوش ہے
تم لعنت لعنت کرتے ہو
سب سے کٹ کر جینا مرنا
کیسے ہو اب تک اچھے ہو
پل پل کالک دُھول دھوئیں میں
تم کیوں کر اُجلے رہتے ہو
چور کہاں جائیں گے آخر
تم سونا چاندی کہتے ہو
خُوب غزل کے ہونٹوں پر بھی
تیزابی لہجہ رکھتے ہو
شبیر احمد قرار
No comments:
Post a Comment