محبت نے ایسے دو تھپڑ جڑے تھے
حواسوں کے ٹکڑے زمیں پر پڑے تھے
ہماری جدائی میں شامل تھی سازش
کہ جو سرغنہ تھے ہمارے بڑے تھے
ہے بچپن بھی کتنی سہانی حقیقت
کہانی تھی نانی تھی کچے گھڑے تھے
ابھی پہلی سیڑھی پہ تھا عشق اپنا
ہزاروں دفعہ وسوسوں سے لڑے تھے
یقیناً ہمیں ایک ہونا تھا اک دن
بھلا ہو بڑوں کا وہ ضد پر اڑے تھے
ثمرین افتخار
No comments:
Post a Comment