Friday, 16 April 2021

بات سن کر جو کان بند کیے

 بات سن کر جو کان بند کیے

یعنی بستے مکان بند کیے

اب وہی رات کا ہے پچھتاوا

دل کے دن میں گمان بند کیے

کتنی روحوں کی خشک سالی نے

زندگی کے گیان بند کیے

بول مٹی بتا تِرے اندر

کتنے کڑیل جوان بند کیے

اس نے ہونٹوں پہ ہاتھ دھرتے ہی

گفتگو کے نشان بند کیے

دیکھتے ہی مِرے خلاف اُسے

سب نے اپنے بیان. بند کیے

چل پڑا وہ، ہما مِرے پیچھے

خوشبوؤں کی دکان بند کیے


ہما شاہ

No comments:

Post a Comment