بات سن کر جو کان بند کیے
یعنی بستے مکان بند کیے
اب وہی رات کا ہے پچھتاوا
دل کے دن میں گمان بند کیے
کتنی روحوں کی خشک سالی نے
زندگی کے گیان بند کیے
بول مٹی بتا تِرے اندر
کتنے کڑیل جوان بند کیے
اس نے ہونٹوں پہ ہاتھ دھرتے ہی
گفتگو کے نشان بند کیے
دیکھتے ہی مِرے خلاف اُسے
سب نے اپنے بیان. بند کیے
چل پڑا وہ، ہما مِرے پیچھے
خوشبوؤں کی دکان بند کیے
ہما شاہ
No comments:
Post a Comment