Showing posts with label قیس رامپوری. Show all posts
Showing posts with label قیس رامپوری. Show all posts

Tuesday, 12 March 2024

ہم اپنے شہر کے چہروں کو دیکھتے ہیں بہت

 ہم اپنے شہر کے چہروں کو دیکھتے ہیں بہت

کہ خود کو دیکھنا چاہیں تو آئینے ہیں بہت

نہ جانے کون سی منزل پہ آ گئے ہم لوگ

کہ ہاتھ پاؤں ہیں شل اور ولولے ہیں بہت

ہمارے اشک حقارت سے دیکھنے والو

کسی زمانے میں ہم لوگ بھی ہنسے ہیں بہت

Tuesday, 5 March 2024

آج رسوا ہیں تو ہم کوچہ و بازار بہت

 آج رُسوا ہیں تو ہم کُوچہ و بازار بہت

یا کبھی گیت بھی گاتے تھے سر دار بہت

اپنے حالات کو سُلجھاؤ تو کچھ بات بنے

مل بھی جائیں گے کبھی گیسوئے خمدار بہت

دل کے زخموں کو بھی ممکن ہو تو دیکھو ورنہ

چاند سے چہرے بہت پُھول سے رُخسار بہت

Thursday, 25 January 2024

چلو سویرا ہوا اذن پر کشائی ملا

 نیا سویرا


چلو سویرا ہُوا

اِذنِ پر کُشائی مِلا

مگر سوال تو یہ ہے مِرے تعاقب میں

دہانے کھولے ہوئے اب بھی بے شمار عفریت

مِرے بدن کا لہو چاٹنے کی فکر میں ہیں


قیس رامپوری

Thursday, 25 March 2021

دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میں

دل کی صُورت تِرے سینے میں دھڑکتا ہوں میں

ہاں بظاہر تِرے ہاتھوں کا کھلونا ہوں میں

اب جہاں چاند لبِ بام اُبھرتا ہی نہیں

جانے کیوں پھر انہیں گلیوں سے گُزرتا ہوں میں

کتنا نادان تھا میں، ڈُوب گیا، جل بھی گیا

وہ بہت کہتا رہا، آگ کا دریا ہوں میں

Wednesday, 24 March 2021

یاد اس کی ہے اور چاندنی ہے

یاد اس کی ہے اور چاندنی ہے

رات اک حادثہ بن گئی ہے

یہ مِری شانِ بادہ کشی ہے

اُس نظر نے پلائی تو پی ہے

تیرے غم نے مِری زندگی کو

لذتِ زندگی بخش دی ہے