ہم اپنے شہر کے چہروں کو دیکھتے ہیں بہت
کہ خود کو دیکھنا چاہیں تو آئینے ہیں بہت
نہ جانے کون سی منزل پہ آ گئے ہم لوگ
کہ ہاتھ پاؤں ہیں شل اور ولولے ہیں بہت
ہمارے اشک حقارت سے دیکھنے والو
کسی زمانے میں ہم لوگ بھی ہنسے ہیں بہت
ہم اپنے شہر کے چہروں کو دیکھتے ہیں بہت
کہ خود کو دیکھنا چاہیں تو آئینے ہیں بہت
نہ جانے کون سی منزل پہ آ گئے ہم لوگ
کہ ہاتھ پاؤں ہیں شل اور ولولے ہیں بہت
ہمارے اشک حقارت سے دیکھنے والو
کسی زمانے میں ہم لوگ بھی ہنسے ہیں بہت
آج رُسوا ہیں تو ہم کُوچہ و بازار بہت
یا کبھی گیت بھی گاتے تھے سر دار بہت
اپنے حالات کو سُلجھاؤ تو کچھ بات بنے
مل بھی جائیں گے کبھی گیسوئے خمدار بہت
دل کے زخموں کو بھی ممکن ہو تو دیکھو ورنہ
چاند سے چہرے بہت پُھول سے رُخسار بہت
نیا سویرا
چلو سویرا ہُوا
اِذنِ پر کُشائی مِلا
مگر سوال تو یہ ہے مِرے تعاقب میں
دہانے کھولے ہوئے اب بھی بے شمار عفریت
مِرے بدن کا لہو چاٹنے کی فکر میں ہیں
قیس رامپوری
دل کی صُورت تِرے سینے میں دھڑکتا ہوں میں
ہاں بظاہر تِرے ہاتھوں کا کھلونا ہوں میں
اب جہاں چاند لبِ بام اُبھرتا ہی نہیں
جانے کیوں پھر انہیں گلیوں سے گُزرتا ہوں میں
کتنا نادان تھا میں، ڈُوب گیا، جل بھی گیا
وہ بہت کہتا رہا، آگ کا دریا ہوں میں
یاد اس کی ہے اور چاندنی ہے
رات اک حادثہ بن گئی ہے
یہ مِری شانِ بادہ کشی ہے
اُس نظر نے پلائی تو پی ہے
تیرے غم نے مِری زندگی کو
لذتِ زندگی بخش دی ہے