Thursday, 25 March 2021

دل کی صورت ترے سینے میں دھڑکتا ہوں میں

دل کی صُورت تِرے سینے میں دھڑکتا ہوں میں

ہاں بظاہر تِرے ہاتھوں کا کھلونا ہوں میں

اب جہاں چاند لبِ بام اُبھرتا ہی نہیں

جانے کیوں پھر انہیں گلیوں سے گُزرتا ہوں میں

کتنا نادان تھا میں، ڈُوب گیا، جل بھی گیا

وہ بہت کہتا رہا، آگ کا دریا ہوں میں

آرزو تھی کہ گُلابوں کے دِلوں میں رہتا

یہ سزا پائی کہ کانٹوں کا بِچھونا ہوں میں

میرے پاس آ کے کوئی تشنہ لبی بُھول گیا

میں تو سمجھا تھا کہ تپتا ہُوا صحرا ہوں میں


قیس رامپوری

No comments:

Post a Comment