جام بھرتا نظر نہیں آتا
دل بہلتا نظر نہیں آتا
سب کے دل میں ہیں پیار کی باتیں
کوئی کرتا نظر نہیں آتا
چاہتیں اور بڑھتی جاتی ہیں
دل سنبھلتا نظر نہیں آتا
جام بھرتا نظر نہیں آتا
دل بہلتا نظر نہیں آتا
سب کے دل میں ہیں پیار کی باتیں
کوئی کرتا نظر نہیں آتا
چاہتیں اور بڑھتی جاتی ہیں
دل سنبھلتا نظر نہیں آتا
گفتگوئے یار میں تھا شاعری کا ذائقہ
بات کرنے کا ہمیں بھی ہو گیا تھا حوصلہ
باندھ کر رختِ سفر جب جانب منزل چلے
زندگی کا ہم نے دیکھا رنگ بدلتا سلسلہ
نارسائی زیست میں کیوں چل رہی ہے ساتھ ساتھ
جس قدر میں بڑھ رہا ہوں، بڑھ رہا ہے فاصلہ
شاید کہ یہی میری ریاضت کا صلہ ہے
کافی ہے کہ پردہ تِری سوچوں کا ہلا ہے
منسوب ہوا مجھ سے کسی دل کا صحیفہ
بیتے ہوئے لمحوں سے کوئی ساز ملا ہے
اک چہرے پہ معصوم سی حیرت کا ہے موسم
یا شاخِ محبت پہ کوئی پھول کھلا ہے
انجامِ گلستانِ وفا دیکھ رہا ہوں
میں ظلم کے موسم کی ادا دیکھ رہا ہوں
چھائی ہے خزاں رُت کی گھٹا صحنِ چمن میں
پھولوں پہ مگر کھلتی صبا دیکھ رہا ہوں
ہر سمت ہیں بکھرے ہوئے ذہنوں کے مناظر
افکار کو زنجیر بپا دیکھ رہا ہوں
ضبط کی انتہا ہے آج کی شام
اک قیامت بپا ہے آج کی شام
آج کی رات کیسے گزرے گی
کیا سے کیا ہو گیا ہے آج کی شام
روح کو جسم کو قرار نہیں
جام خالی پڑا ہے آج کی شام