Showing posts with label شفیق مراد. Show all posts
Showing posts with label شفیق مراد. Show all posts

Tuesday, 12 January 2021

جام بھرتا نظر نہیں آتا

 جام بھرتا نظر نہیں آتا

دل بہلتا نظر نہیں آتا

سب کے دل میں ہیں پیار کی باتیں 

کوئی کرتا نظر نہیں آتا

چاہتیں اور بڑھتی جاتی ہیں 

دل سنبھلتا نظر نہیں آتا

Monday, 11 January 2021

گفتگوئے یار میں تھا شاعری کا ذائقہ

 گفتگوئے یار میں تھا شاعری کا ذائقہ

بات کرنے کا ہمیں بھی ہو گیا تھا حوصلہ 

باندھ کر رختِ سفر جب جانب منزل چلے

زندگی کا ہم نے دیکھا رنگ بدلتا سلسلہ

نارسائی زیست میں کیوں چل رہی ہے ساتھ ساتھ

جس قدر میں بڑھ رہا ہوں، بڑھ رہا ہے فاصلہ 

Wednesday, 6 January 2021

شاید کہ یہی میری ریاضت کا صلہ ہے

 شاید کہ یہی میری ریاضت کا صلہ ہے 

کافی ہے کہ پردہ تِری سوچوں کا ہلا ہے 

منسوب ہوا مجھ سے کسی دل کا صحیفہ 

بیتے ہوئے لمحوں سے کوئی ساز ملا ہے 

اک چہرے پہ معصوم سی حیرت کا ہے موسم 

یا شاخِ محبت پہ کوئی پھول کھلا ہے 

Tuesday, 5 January 2021

انجام گلستان وفا دیکھ رہا ہوں

 انجامِ گلستانِ وفا دیکھ رہا ہوں 

میں ظلم کے موسم کی ادا دیکھ رہا ہوں 

چھائی ہے خزاں رُت کی گھٹا صحنِ چمن میں 

پھولوں پہ مگر کھلتی صبا دیکھ رہا ہوں 

ہر سمت ہیں بکھرے ہوئے ذہنوں کے مناظر 

افکار کو زنجیر بپا دیکھ رہا ہوں 

Monday, 4 January 2021

ضبط کی انتہا ہے آج کی شام

 ضبط کی انتہا ہے آج کی شام

اک قیامت بپا ہے آج کی شام

آج کی رات کیسے گزرے گی

کیا سے کیا ہو گیا ہے آج کی شام

روح کو جسم کو قرار نہیں

جام خالی پڑا ہے آج کی شام