گفتگوئے یار میں تھا شاعری کا ذائقہ
بات کرنے کا ہمیں بھی ہو گیا تھا حوصلہ
باندھ کر رختِ سفر جب جانب منزل چلے
زندگی کا ہم نے دیکھا رنگ بدلتا سلسلہ
نارسائی زیست میں کیوں چل رہی ہے ساتھ ساتھ
جس قدر میں بڑھ رہا ہوں، بڑھ رہا ہے فاصلہ
فون پر سمجھا تھا میں، آواز شاید کٹ گئی
درحقیقت کٹ رہا تھا دل کا دل سے رابطہ
حسنِ رفتہ کی جھلک مجھ کو دکھاؤ، جب کہا
ٹوٹ کر پاؤں میں میرے آ گِرا تھا آئینہ
عشق کی شدت مقدر حسن کا ٹھہری مراد
دے دیا ترتیب مل کر زندگی کا زائچہ
شفیق مراد
No comments:
Post a Comment