Monday, 11 January 2021

اسے بتانا کہ میرے ہاتھوں کو سرسراہٹ نے اتنا مفلوج کر دیا ہے

 اسے بتانا


اسے بتانا کہ میرے ہاتھوں کو سرسراہٹ نے اتنا مفلوج کر دیا ہے 

کہ چٹکیاں بے اثر ہوئی ہیں

اسے بتانا کہ میری حساسیت نے بے وقت بے حسی اختیار کی ہے

اسے بتانا کہ خود کلامی کا مرحلہ بھی اسی سے باتوں میں طے ہوا ہے

اسے بتانا کہ اپنے ہونے کا بوجھ اب اس قدر بڑھا ہے 

کہ میرے ہونے کے سر میں چاندی اُگی ہوئی ہے

اسے بتانا کہ میں نے لوگوں سے بات کرنے کو نوحہ خوانی سمجھ لیا ہے

اسے بتانا کہ روشنی کا جواز یوں بے جواز ہے کہ 

میں دیکھنے کی طلب سے دامن چھڑا چکا ہوں

اسے بتانا کہ میری سانسوں کے سارے نیزوں نے 

میرے سینے کو قبرِ اصغر سمجھ لیا ہے

اسے بتانا کہ میرے ہاتھوں کی انگلیوں نے 

خلا کو زخموں سے بھر دیا ہے

اسے بتانا کہ میری آنکھوں کے گرد جو تھے سیاہ حلقے 

وہ اس کے غم کی عظیم نعمت سے سرخ ہونے پہ مطمئن ہیں

اسے بتانا کہ اس کے دکھ کو معاشرے کی بری نظر سے بچا رہا ہوں

اسے بتانا کہ اس کی فطرت کی پیروی میں لگا ہوا ہوں

اسے بتانا کہ اس کے کہنے پہ مسکرانے کی کوششوں میں

میں اپنی آنکھیں بہا چکا ہوں

اسے بتانا کہ اب کسی کی بھی کال سننے کا کوئی مقصد نہیں رہا ہے

اسے بتانا کہ میں نے پچھلے برس سے میسج کا کوئی پیکج نہیں لگایا

اسے بتانا کہ اس نے تحفے میں اک گھڑی جو کہ 

مجھ کو دی تھی وہ اس کے جاتے ہی رک گئی تھی

اسے بتانا کہ وقت میرا رکا ہوا ہے

اسے بتانا کہ اس کے جانے کے بعد مجھ کو 

اس اپنے بھدے وجود سے بھی کوئی شکایت نہیں رہی ہے

اسے بتانا کہ آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں رہی ہے

وہ اس لیے کہ میں ایک آنسو بنا ہوا ہوں

اسے بتانا کہ میری آواز میری چیخوں کا ساتھ دینے سے منحرف ہے

اسے بتانا کہ میرے کانوں میں اس کے جانے کی چاپ 

یوں بس گئی ہے جیسے مِرے مقدر میں وہ نہیں ہے

اسے بتانا کہ اب مجھے بے جواز ہونے کا کرب آرام دے رہا ہے

اسے بتانا کہ دور رہ کر میں اس کے اطراف میں کہیں ہوں

اسے بتانا کہ وہ نہیں ہے تو میں نہیں ہوں

اسے بتانا

اسے مگر کچھ بھی مت بتانا

وہ رو پڑے گا


کاظم حسین کاظم

No comments:

Post a Comment