آس ملن کی مر گئی جب زندانوں میں
پتھر ہو گئی آنکھیں روشن دانوں میں
جانے کیوں اک خوف سا ہے لٹ جانے کا
ایسا کیا ہے گھر آئے مہمانوں میں
دن بھر پیٹ کی آگ نہ بجھنے پائی تو
شب بھر بھوک جلائی آتشدانوں میں
اپنے کھوئے بیٹوں کو اب شہر بہ شہر
ڈھونڈ رہی ہیں مائیں مردہ خانوں میں
گندم نمبر دار اٹھا کر لے آیا
باقی بُھس کو بانٹ دیا دہقانوں میں
احساسات کی بارش ہو جس وقت امین
لوٹ کے واپس آ جانا انسانوں میں
امین اوڈیرائی
No comments:
Post a Comment