Monday, 11 January 2021

آس ملن کی مر گئی جب زندانوں میں

 آس ملن کی مر گئی جب زندانوں میں

پتھر ہو گئی آنکھیں روشن دانوں میں

جانے کیوں اک خوف سا ہے لٹ جانے کا

ایسا کیا ہے گھر آئے مہمانوں میں

دن بھر پیٹ کی آگ نہ بجھنے پائی تو

شب بھر بھوک جلائی آتشدانوں میں

اپنے کھوئے بیٹوں کو اب شہر بہ شہر

ڈھونڈ رہی ہیں مائیں مردہ خانوں میں

گندم نمبر دار اٹھا کر لے آیا

باقی بُھس کو بانٹ دیا دہقانوں میں

احساسات کی بارش ہو جس وقت امین

لوٹ کے واپس آ جانا انسانوں میں


امین اوڈیرائی

No comments:

Post a Comment