Monday, 11 January 2021

ترے خیال میں اپنا خیال رکھا ہے

 تِرے خیال میں اپنا خیال رکھا ہے

کہ تیری یاد کو دل میں سنبھال رکھا ہے

اداس شب کے وہ قصے تمام ہو گئے ہیں

سو ذہن و دل سے غموں کو نکال رکھا ہے

تِرے مزاج کے مانند ہے مزاج اپنا

تِرے سوال سے پہلے سوال رکھا ہے

جو بات میں نے کہی بھی نہیں ہے تجھ سے کبھی

اسی ہی بات کو سب نے اچھال رکھا ہے

میں سوگوار سہی، یار! سوگواری میں

برائے نام ہی خود کو بحال رکھا ہے

حسین لمحے بھی کاشف کو راس آئے کب

بہار میں ہی خزاؤں سا حال رکھا ہے


کاشف لاشاری

No comments:

Post a Comment