Showing posts with label عزیز صفی پوری. Show all posts
Showing posts with label عزیز صفی پوری. Show all posts

Saturday, 11 April 2026

نہایت شوق سے کہنا پیام آہستہ آہستہ

 دئیے ساقی نے مجھ کو چند جام آہستہ آہستہ

ہوا یہ دور مے آخر تمام آہستہ آہستہ

کرے گر کوئی یوسف ہو کے زنداں میں شکیبائی

عزیز مصر ہو اس کا غلام آہستہ آہستہ

ادب سے سر جھکا کر قاصد اس کے روبرو جانا

نہایت شوق سے کہنا پیام آہستہ آہستہ

Thursday, 27 June 2024

ہر سمت میں ہے تو جلوہ نما اے نور محمد صلی اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت 


ہر سمت میں ہے تو جلوہ نما اے نور محمد صلی اللہ 

آفاق کو تُو نے گھیر لیا، اے نورِ محمد صلی اللہ 

دِکھلا کے چمک بالائے فلک آدمؑ کو کیا مسجود ملک 

موسیٰ کو بنایا انی انا،۔ اے نور محمد صلی اللہ 

تُو سب میں نہاں سب تجھ سے عیاں ہے تیرے لیے یہ کون و مکاں 

باہر ہے بیاں سے تیری ثناء، اے نور محمد صلی اللہ 

Saturday, 8 April 2023

مجھے عشق نے یہ سبق دیا کہ نہ ہجر ہے نہ وصال ہے

مجھے عشق نے یہ سبق دیا کہ نہ ہجر ہے، نہ وصال ہے

اسی ذات کا میں ظہور ہوں، یہ جمال اسی کا جمال ہے

وہی صورت اور وہی آئینہ، یہ خیال دل سے جو جائے نہ

تو وہ رو برو ہے ہر آئینہ یہی شان، شان کمال ہے

کوئی اور حق کے سوا نہیں ازل و ابد ہے وہ آپ ہی 

وہی آپ لیس کمثلہ وہی آپ اپنی مثال ہے 

Monday, 15 March 2021

کوئی کیا سمجھے کہ کیا کرتا ہے عشق

کوئی کیا سمجھے کہ کیا کرتا ہے عشق 

ہر دم اک فتنہ بپا کرتا ہے عشق 

ہستیٔ وہمی کو کر دیتا ہے نیست 

راز دار کبریا کرتا ہے عشق 

بس وہی پاتا ہے عیش زندگی 

جس کو غم میں مبتلا کرتا ہے عشق