دئیے ساقی نے مجھ کو چند جام آہستہ آہستہ
ہوا یہ دور مے آخر تمام آہستہ آہستہ
کرے گر کوئی یوسف ہو کے زنداں میں شکیبائی
عزیز مصر ہو اس کا غلام آہستہ آہستہ
ادب سے سر جھکا کر قاصد اس کے روبرو جانا
نہایت شوق سے کہنا پیام آہستہ آہستہ
دئیے ساقی نے مجھ کو چند جام آہستہ آہستہ
ہوا یہ دور مے آخر تمام آہستہ آہستہ
کرے گر کوئی یوسف ہو کے زنداں میں شکیبائی
عزیز مصر ہو اس کا غلام آہستہ آہستہ
ادب سے سر جھکا کر قاصد اس کے روبرو جانا
نہایت شوق سے کہنا پیام آہستہ آہستہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر سمت میں ہے تو جلوہ نما اے نور محمد صلی اللہ
آفاق کو تُو نے گھیر لیا، اے نورِ محمد صلی اللہ
دِکھلا کے چمک بالائے فلک آدمؑ کو کیا مسجود ملک
موسیٰ کو بنایا انی انا،۔ اے نور محمد صلی اللہ
تُو سب میں نہاں سب تجھ سے عیاں ہے تیرے لیے یہ کون و مکاں
باہر ہے بیاں سے تیری ثناء، اے نور محمد صلی اللہ
مجھے عشق نے یہ سبق دیا کہ نہ ہجر ہے، نہ وصال ہے
اسی ذات کا میں ظہور ہوں، یہ جمال اسی کا جمال ہے
وہی صورت اور وہی آئینہ، یہ خیال دل سے جو جائے نہ
تو وہ رو برو ہے ہر آئینہ یہی شان، شان کمال ہے
کوئی اور حق کے سوا نہیں ازل و ابد ہے وہ آپ ہی
وہی آپ لیس کمثلہ وہی آپ اپنی مثال ہے
کوئی کیا سمجھے کہ کیا کرتا ہے عشق
ہر دم اک فتنہ بپا کرتا ہے عشق
ہستیٔ وہمی کو کر دیتا ہے نیست
راز دار کبریا کرتا ہے عشق
بس وہی پاتا ہے عیش زندگی
جس کو غم میں مبتلا کرتا ہے عشق