مجھے عشق نے یہ سبق دیا کہ نہ ہجر ہے، نہ وصال ہے
اسی ذات کا میں ظہور ہوں، یہ جمال اسی کا جمال ہے
وہی صورت اور وہی آئینہ، یہ خیال دل سے جو جائے نہ
تو وہ رو برو ہے ہر آئینہ یہی شان، شان کمال ہے
کوئی اور حق کے سوا نہیں ازل و ابد ہے وہ آپ ہی
وہی آپ لیس کمثلہ وہی آپ اپنی مثال ہے
مِری بندگی ہے تو بس یہی کہ کروں میں اپنی ہی بندگی گی
یہی ذکر ہے یہی فکر ہے، یہی حال ہے، یہی قال ہے
میں فدائے خادمِ پاک ہوں، درِ بارگاہ کی خاک ہوں
وہ سما کے مجھے میں یہ کہتے ہیں، کہ عزیز غیر محال ہے
عزیزاللہ صفی پوری
No comments:
Post a Comment