Showing posts with label اسماعیل سیفی. Show all posts
Showing posts with label اسماعیل سیفی. Show all posts

Tuesday, 14 July 2026

قسم لے لو یہ دنیا لالچی ہے

 درونِ دل اگرچہ تیرگی ہے

شبِ ظلمت کے پیچھے روشنی ہے

نہیں مایوس ہونے کی ضرورت

محبت کے نگر میں بے کلی ہے

جہانِ رنگ و بُو کے رُوپ میں سب

غموں کی دُھوپ ہے اور بے بسی ہے

Saturday, 17 August 2024

زر کی نہ سیم کی نہ نگینے کی بات کر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زر کی، نہ سیم کی، نہ نگینے کی بات کر

کرنی ہی ہے تو مجھ سے مدینے  کی بات کر

بے کار ہیں چمن کے گلابوں کی خوشبوئیں

تُو میرے مصطفیٰﷺ کے پسینے کی بات کر

اِک میں ہوں اور ایک ہے دریائے رنج و غم

شہرِ نبیﷺ کو جاتے سفینے کی بات

Friday, 16 August 2024

اتر رہی جگہ جگہ سکینہ ہے مدینہ ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اُتر رہی جگہ جگہ سکینہ ہے، مدینہ ہے

کہ زندگی کا خوب تر قرینہ ہے، مدینہ ہے

گلی گلی میں چار سُو ہے جنتوں کا راستہ

اُمید و مغفرت کا اِک سفینہ ہے، مدینہ ہے

فدا رہیں یہ مال و زر غبارِ خاکِ طیبہ پر

جو برکتوں کا قیمتی خزینہ ہے، مدینہ ہے

Thursday, 15 August 2024

یوں آج تری بات اشارات میں گم ہے

 یوں آج تِری بات اشارات میں گُم ہے 

جیسے کوئی تصریح کنایات میں گم ہے

ہر فرد کی نظریں ہیں اُٹھی چرخ کی جانب

وہ چاند کی مانند سموات میں گم ہے

اب تک ہے تر و تازہ تِری دِید کی سوغات 

دل اب بھی تِرے لُطفِ ملاقات میں گم ہے