درونِ دل اگرچہ تیرگی ہے
شبِ ظلمت کے پیچھے روشنی ہے
نہیں مایوس ہونے کی ضرورت
محبت کے نگر میں بے کلی ہے
جہانِ رنگ و بُو کے رُوپ میں سب
غموں کی دُھوپ ہے اور بے بسی ہے
درونِ دل اگرچہ تیرگی ہے
شبِ ظلمت کے پیچھے روشنی ہے
نہیں مایوس ہونے کی ضرورت
محبت کے نگر میں بے کلی ہے
جہانِ رنگ و بُو کے رُوپ میں سب
غموں کی دُھوپ ہے اور بے بسی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زر کی، نہ سیم کی، نہ نگینے کی بات کر
کرنی ہی ہے تو مجھ سے مدینے کی بات کر
بے کار ہیں چمن کے گلابوں کی خوشبوئیں
تُو میرے مصطفیٰﷺ کے پسینے کی بات کر
اِک میں ہوں اور ایک ہے دریائے رنج و غم
شہرِ نبیﷺ کو جاتے سفینے کی بات
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اُتر رہی جگہ جگہ سکینہ ہے، مدینہ ہے
کہ زندگی کا خوب تر قرینہ ہے، مدینہ ہے
گلی گلی میں چار سُو ہے جنتوں کا راستہ
اُمید و مغفرت کا اِک سفینہ ہے، مدینہ ہے
فدا رہیں یہ مال و زر غبارِ خاکِ طیبہ پر
جو برکتوں کا قیمتی خزینہ ہے، مدینہ ہے
یوں آج تِری بات اشارات میں گُم ہے
جیسے کوئی تصریح کنایات میں گم ہے
ہر فرد کی نظریں ہیں اُٹھی چرخ کی جانب
وہ چاند کی مانند سموات میں گم ہے
اب تک ہے تر و تازہ تِری دِید کی سوغات
دل اب بھی تِرے لُطفِ ملاقات میں گم ہے