Tuesday, 14 July 2026

قسم لے لو یہ دنیا لالچی ہے

 درونِ دل اگرچہ تیرگی ہے

شبِ ظلمت کے پیچھے روشنی ہے

نہیں مایوس ہونے کی ضرورت

محبت کے نگر میں بے کلی ہے

جہانِ رنگ و بُو کے رُوپ میں سب

غموں کی دُھوپ ہے اور بے بسی ہے

رسائی ہی نہیں ہے آسماں تک

زمیں زادوں کو بس تیری کمی ہے

خدا آباد رکھے ہر قدم پر

جہاں کی زندگی تجھ سے جُڑی ہے

کسی قیمت پہ یہ راضی نہ ہو گی

قسم لے لو یہ دنیا لالچی ہے

کسی کا ہجر تم دل پر نہ لے لو

یہاں ہر چیز سیفی عارضی ہے


اسماعیل سیفی

No comments:

Post a Comment