Showing posts with label کائنات احمد. Show all posts
Showing posts with label کائنات احمد. Show all posts

Monday, 19 September 2022

وہ آ گیا تو اس کے انتظار سے نکل گئی

 وہ آ گیا تو اُس کے انتظار سے نکل گئی

دو چار دن میں عشق کے بخار سے نکل گئی

پنپ رہے ہیں واہمے ہمارے درمیان میں

شکوک کی یہ بیل اختیار سے نکل گئی

وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر چلا گیا تو ایک دم

یہ گھومتی ہوئی زمیں مدار سے نکل گئی

Thursday, 8 September 2022

پتنگا جل اٹھا لیکن دیے میں ضم نہ ہوا

 پتنگا جل اٹھا لیکن دِیے میں ضم نہ ہوا

فقیر عشق کسی سلسلے میں ضم نہ ہوا

یہ دل ہے اور بُجھی آگ میں سُلگتا ہے

یہ وہ شجر ہے جو آتشکدے میں ضم نہ ہوا

حیات اُچٹتی نگاہوں کی طرح سے گزری

سفر عجیب تھا جو راستے میں ضم نہ ہوا

Monday, 5 September 2022

جو خواب آنکھ سے بہہ بہہ کے سارا خاک ہوا

 جو خواب آنکھ سے بہہ بہہ کے سارا خاک ہوا

تمہارے بعد یہ دریا دوبارہ خاک ہوا

میں بُجھ گئی تو جل اٹھیں گے لوگ میری جگہ

چمک اُٹھی تو کہیں گے ستارہ خاک ہوا

یہاں تو گرد میں لپٹے ہوئے ہیں چودہ طبق

فلک نے جس کو زمیں پر اُتارا، خاک ہوا

Friday, 2 September 2022

تمہیں اب ہم بتائیں گے کہاں پر کیا بنانا تھا

 تمہیں اب ہم بتائیں گے کہاں پر کیا بنانا تھا

جہاں پر ریت اڑتی ہے، وہاں دریا بنانا تھا

ادھورا چاند پوری روشنی دیتا ہے دنیا کو

مجھے آدھا بنانا تھا،۔ تجھے پورا بنانا تھا

بچھڑنے والے سارے ایک دن پھر سے جہاں ملتے

دیارِ عشق💞 میں ایسا کوئی کونا بنانا تھا

Thursday, 1 September 2022

افسردگئ کون و مکاں دیکھتے رہنا

 افسردگئ کون و مکاں دیکھتے رہنا

بجھتے ہوئے تاروں کا دھواں دیکھتے رہنا

جاتے ہوئے کہتے ہو نشاں دیکھتے رہنا

اب ہم کو میسر ہے کہاں دیکھتے رہنا

میں ایک جگہ پر کبھی رہتی ہی نہیں ہوں

سو آج جہاں پر ہوں وہاں دیکھتے رہنا