وہ آ گیا تو اُس کے انتظار سے نکل گئی
دو چار دن میں عشق کے بخار سے نکل گئی
پنپ رہے ہیں واہمے ہمارے درمیان میں
شکوک کی یہ بیل اختیار سے نکل گئی
وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر چلا گیا تو ایک دم
یہ گھومتی ہوئی زمیں مدار سے نکل گئی
وہ آ گیا تو اُس کے انتظار سے نکل گئی
دو چار دن میں عشق کے بخار سے نکل گئی
پنپ رہے ہیں واہمے ہمارے درمیان میں
شکوک کی یہ بیل اختیار سے نکل گئی
وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر چلا گیا تو ایک دم
یہ گھومتی ہوئی زمیں مدار سے نکل گئی
پتنگا جل اٹھا لیکن دِیے میں ضم نہ ہوا
فقیر عشق کسی سلسلے میں ضم نہ ہوا
یہ دل ہے اور بُجھی آگ میں سُلگتا ہے
یہ وہ شجر ہے جو آتشکدے میں ضم نہ ہوا
حیات اُچٹتی نگاہوں کی طرح سے گزری
سفر عجیب تھا جو راستے میں ضم نہ ہوا
جو خواب آنکھ سے بہہ بہہ کے سارا خاک ہوا
تمہارے بعد یہ دریا دوبارہ خاک ہوا
میں بُجھ گئی تو جل اٹھیں گے لوگ میری جگہ
چمک اُٹھی تو کہیں گے ستارہ خاک ہوا
یہاں تو گرد میں لپٹے ہوئے ہیں چودہ طبق
فلک نے جس کو زمیں پر اُتارا، خاک ہوا
تمہیں اب ہم بتائیں گے کہاں پر کیا بنانا تھا
جہاں پر ریت اڑتی ہے، وہاں دریا بنانا تھا
ادھورا چاند پوری روشنی دیتا ہے دنیا کو
مجھے آدھا بنانا تھا،۔ تجھے پورا بنانا تھا
بچھڑنے والے سارے ایک دن پھر سے جہاں ملتے
دیارِ عشق💞 میں ایسا کوئی کونا بنانا تھا
افسردگئ کون و مکاں دیکھتے رہنا
بجھتے ہوئے تاروں کا دھواں دیکھتے رہنا
جاتے ہوئے کہتے ہو نشاں دیکھتے رہنا
اب ہم کو میسر ہے کہاں دیکھتے رہنا
میں ایک جگہ پر کبھی رہتی ہی نہیں ہوں
سو آج جہاں پر ہوں وہاں دیکھتے رہنا