وہ آ گیا تو اُس کے انتظار سے نکل گئی
دو چار دن میں عشق کے بخار سے نکل گئی
پنپ رہے ہیں واہمے ہمارے درمیان میں
شکوک کی یہ بیل اختیار سے نکل گئی
وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر چلا گیا تو ایک دم
یہ گھومتی ہوئی زمیں مدار سے نکل گئی
جہان کو بتا دیا تُو کس کا قرضدار ہے
بالآخر آج میں تِرے اُدھار سے نکل گئی
ہزاروں لوگ اور آ گئے مِری لپیٹ میں
جب اُس کی روشنی مِرے غبار سے نکل گئی
میں چھوڑ کر تو آ گئی تجھے بھرے ہجوم میں
مگر مجھے خوشی ہے میں قطار سے نکل گئی
وہ تیغ تو نہ تھی جسے دلوں کی ڈھال روکتی
نظر تھی سو ہمارے آر پار سے نکل گئی
کائنات احمد
No comments:
Post a Comment