Showing posts with label فیصل فہمی. Show all posts
Showing posts with label فیصل فہمی. Show all posts

Friday, 21 January 2022

عشق کی آج انتہا کر دو

 عشق کی آج انتہا کر دو

روح کو جسم سے جدا کر دو

ہے خلاصہ یہی محبت کا

ہو جو اچھا، اسے برا کر دو

یہ جو آنکھوں سے خون جاری ہے

اس کو ہاتھوں کی تم حنا کر دو

Sunday, 8 August 2021

اک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والے

 اک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والے

یہ جو لمحے ہیں کبھی پھر نہیں آنے والے

کتنی پاکیزہ جگہ ہے کہ جہاں پر لوگو

اہلِ مقتل ہیں مِری لاش جلانے والے

غمِ دوراں کے مصائب کا مداوا کیا ہے

عشق بس عشق بتاتے ہیں بتانے والے

Friday, 6 August 2021

اور تو کچھ نہیں کیا ہو گا

 اور تو کچھ نہیں کیا ہو گا

میں نے پھر موت کو جیا ہو گا

اس کے ساگر سے لب لگائے تھے

اس نے اک گھونٹ تو پیا ہو گا

آج بلبل نے اس چنبیلی سے

جانے کیا کان میں کہا ہو گا

Wednesday, 4 August 2021

کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے

 کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے

اب کیا ہوا جو خواب تمہارے چلے گئے

ساقی کے در پہ آج بغاوت کے شور میں

ہم جام جام جام پکارے چلے گئے

روٹھا ہوا ہے چاند بہت آفتاب سے

اور چاندنی کو ڈھونڈنے تارے چلے گئے

Tuesday, 3 August 2021

محبت کے حوالے ڈھونڈتا ہے

 محبت کے حوالے ڈھونڈتا ہے

اندھیروں میں اجالے ڈھونڈتا ہے

خدا جانے وہ کیسا باؤلا ہے

حرم میں مے پیالے ڈھونڈتا ہے

مسافر دو قدم چل کر پریشان

کہ اپنے پا کے چھالے ڈھونڈتا ہے

Monday, 2 August 2021

سنو خاموش ہی ہستی مری تم سے جدا ہو گی

 سنو خاموش ہی ہستی مِری تم سے جدا ہو گی

کہ اب ہر اک فریادِ عنایت بے نوا ہو گی

کسی فردِ محبت سے بھلا امید کیا رکھنا

محبت بے وفا تھی بے وفا ہے بے وفا ہو گی

پرانے کاغذوں پہ درج میری شاعری شاید 

کسی مجروح دل کے زخم کی مائل ردا ہو گی

Monday, 28 June 2021

آج تو کچھ پیار کے بیمار کا بھی ذکر ہو

 التجا


آج تو کچھ پیار کے بیمار کا بھی ذکر ہو

کب تلک بیٹھیں گے یوں ہی پھول مُرجھائے ہوئے

کب تلک بادِ صبا زندانِ شب میں قید ہو

کب تلک دہکیں گے شعلے ہجر کے گلزار میں

کب تلک عریاں رہیں گے یہ شجر گل سب صف بہ صف