عشق کی آج انتہا کر دو
روح کو جسم سے جدا کر دو
ہے خلاصہ یہی محبت کا
ہو جو اچھا، اسے برا کر دو
یہ جو آنکھوں سے خون جاری ہے
اس کو ہاتھوں کی تم حنا کر دو
عشق کی آج انتہا کر دو
روح کو جسم سے جدا کر دو
ہے خلاصہ یہی محبت کا
ہو جو اچھا، اسے برا کر دو
یہ جو آنکھوں سے خون جاری ہے
اس کو ہاتھوں کی تم حنا کر دو
اک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والے
یہ جو لمحے ہیں کبھی پھر نہیں آنے والے
کتنی پاکیزہ جگہ ہے کہ جہاں پر لوگو
اہلِ مقتل ہیں مِری لاش جلانے والے
غمِ دوراں کے مصائب کا مداوا کیا ہے
عشق بس عشق بتاتے ہیں بتانے والے
اور تو کچھ نہیں کیا ہو گا
میں نے پھر موت کو جیا ہو گا
اس کے ساگر سے لب لگائے تھے
اس نے اک گھونٹ تو پیا ہو گا
آج بلبل نے اس چنبیلی سے
جانے کیا کان میں کہا ہو گا
کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے
اب کیا ہوا جو خواب تمہارے چلے گئے
ساقی کے در پہ آج بغاوت کے شور میں
ہم جام جام جام پکارے چلے گئے
روٹھا ہوا ہے چاند بہت آفتاب سے
اور چاندنی کو ڈھونڈنے تارے چلے گئے
محبت کے حوالے ڈھونڈتا ہے
اندھیروں میں اجالے ڈھونڈتا ہے
خدا جانے وہ کیسا باؤلا ہے
حرم میں مے پیالے ڈھونڈتا ہے
مسافر دو قدم چل کر پریشان
کہ اپنے پا کے چھالے ڈھونڈتا ہے
سنو خاموش ہی ہستی مِری تم سے جدا ہو گی
کہ اب ہر اک فریادِ عنایت بے نوا ہو گی
کسی فردِ محبت سے بھلا امید کیا رکھنا
محبت بے وفا تھی بے وفا ہے بے وفا ہو گی
پرانے کاغذوں پہ درج میری شاعری شاید
کسی مجروح دل کے زخم کی مائل ردا ہو گی
التجا
آج تو کچھ پیار کے بیمار کا بھی ذکر ہو
کب تلک بیٹھیں گے یوں ہی پھول مُرجھائے ہوئے
کب تلک بادِ صبا زندانِ شب میں قید ہو
کب تلک دہکیں گے شعلے ہجر کے گلزار میں
کب تلک عریاں رہیں گے یہ شجر گل سب صف بہ صف