Friday, 21 January 2022

عشق کی آج انتہا کر دو

 عشق کی آج انتہا کر دو

روح کو جسم سے جدا کر دو

ہے خلاصہ یہی محبت کا

ہو جو اچھا، اسے برا کر دو

یہ جو آنکھوں سے خون جاری ہے

اس کو ہاتھوں کی تم حنا کر دو

وقت رخصت گلے لگا لینا

آخری بار یہ خطا کر دو

تم مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتی

اپنے حق میں تو فیصلہ کر دو

شبنمی رات کے اندھیرے کو

برہنہ جسم کی قبا کر دو

اب اٹھا دو نقاب چہرے سے

رات کو چاند سے خفا کر دو

ہے کہ دشوار زندگی فہمی

خود کو بیمار با خدا کر دو


فیصل فہمی

No comments:

Post a Comment