پہلے عشق کی بارش میں
بھیگ سہیلی بارش میں
تن کی گندم سبز ہوئی
کیسے لمس کی بارش میں
کچے رنگ نہیں رہتے
دیکھو تتلی، بارش میں
جانے کون نہایا ہو
اُس قربت کی بارش میں
کتنے برے ہو، آ جاؤ
اتنی اچھی بارش میں
یاد ہے کتنے بھیگے تھے
ہم باتوں کی بارش میں
کڑوی باتیں کیا کرنی
ایسی میٹھی بارش میں
جانے کون ملاتا ہے؟
دھوپ ہماری بارش میں
مجھ میں کوئی روتا ہے
ہنستی گاتی بارش میں
مجھ پر فقرے کستی ہے
اب تنہائی بارش میں
عین نقوی
No comments:
Post a Comment