Friday, 21 January 2022

پہلے عشق کی بارش میں بھیگ سہیلی

 پہلے عشق کی بارش میں

بھیگ سہیلی بارش میں

تن کی گندم سبز ہوئی

کیسے لمس کی بارش میں

کچے رنگ نہیں رہتے

دیکھو تتلی، بارش میں

جانے کون نہایا ہو

اُس قربت کی بارش میں

کتنے برے ہو، آ جاؤ

اتنی اچھی بارش میں

یاد ہے کتنے بھیگے تھے

ہم باتوں کی بارش میں

کڑوی باتیں کیا کرنی

ایسی میٹھی بارش میں

جانے کون ملاتا ہے؟

دھوپ ہماری بارش میں

مجھ میں کوئی روتا ہے

ہنستی گاتی بارش میں

مجھ پر فقرے کستی ہے

اب تنہائی بارش میں


عین نقوی

No comments:

Post a Comment