جس روز یہ دیوانہ تِرے در سے اٹھے گا
نوحہ تِری دہلیز کے پتھر سے اٹھے گا
اک رات ان آنکھوں کے دِیے بجھنے لگیں گے
اک رات دھواں خواب کے منظر سے اٹھے گا
لہروں کا سکوں دیکھ کے غافل نہیں ہونا
طوفان کی فطرت ہے وہ اندر سے اٹھے گا
یہ جسم نہیں عشق کی تخریب سَرا ہے
اے دوست! یہ ملبہ ہے جو بستر سے اٹھے گا
تجھ پر کبھی الزام نہ آئے گا جفا کا
ہر بار یقیں اپنے مقدر سے اٹھے گا
جس کا نہیں تجھ سا کوئی رہ دیکھنے والا
خود سوچ وہ کیا سوچ کے دفتر سے اٹھے گا
عدنان محسن
No comments:
Post a Comment