Showing posts with label اعجاز صدیقی. Show all posts
Showing posts with label اعجاز صدیقی. Show all posts

Tuesday, 25 August 2020

وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوا

وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوا 
اور سب کچھ ہے گلستاں میں بہاروں کے سوا 
اب نہ بے باک نگاہی ہے، نہ گستاخ لبی 
چند سہمے ہوۓ مبہم سے اشاروں کے سوا
ساقیا! کوئی نہیں مجرمِ مے خانہ یہاں 
تیرے کم ظرف و نظر بادہ گساروں کے سوا  

مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیا

مل سکے گی اب بھی دادِ آبلہ پائی تو کیا
فاصلے کم ہو گئے، منزل قریب آئی تو کیا
ہے وہی جبر اسیری، اور وہی غم کا قفس
دل پہ بن آئی تو کیا، یہ روح گھبرائی تو کیا
بات تو جب  ہے کہ سارا گلستاں ہنسنے لگے
فصلِ گل میں چند پھولوں کو ہنسی آئی تو کیا

Saturday, 22 August 2020

ترے وصال کی خوشبو ترے جمال کا رنگ

نظامِ فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگ 
جھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگ 
نہ گل کدوں کو میسر، نہ چاند تاروں کو 
تِرے وصال کی خوشبو، تِرے جمال کا رنگ 
ذرا سی دیر کو چہرے دمک تو جاتے ہیں 
خوشی کا رنگ ہو، یا ہو غم و ملال کا رنگ 

ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہیئے

ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئے 
بے نوریوں کو نور سے چمکانا چاہئے 
خوابوں کی ناؤ اور سمندر کا مد و جزر 
ٹکرا کے پاش پاش اسے ہو جانا چاہئے 
نشتر زنی تو شیوۂ اربابِ فن نہیں 
ان دل جلوں کو بات یہ سمجھانا چاہئے 

ہاتھ تیرا مرے زخموں کو دوا لگتا ہے

ناسزا عالمِ امکاں میں سزا لگتا ہے 
ناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہے 
یوں تو گلشن میں ہیں سب مدعیٔ یک رنگی 
باوجود اس کے ہر اک رنگ جدا لگتا ہے 
کبھی دشمن تو کبھی دوست کبھی کچھ بھی نہیں 
مجھے خود بھی نہیں معلوم وہ کیا لگتا ہے 

Monday, 17 October 2016

ظلمتوں کے نرغے میں روشنی کا ہالا ہے

ظلمتوں کے نرغے میں روشنی کا ہالا ہے
صبح جس کو کہتے ہیں رات کا سنبھالا ہے
کس میں کور چشمی ہے، کون آنکھ والا ہے
اک طرف اندھیرا ہے، اک طرف اجالا ہے
درد جب سِوا ہو جائے، خود ہی ہاتھ رکھ لیجے
کون دل کے زخموں پر ہاتھ رکھنے والا ہے

ہم صبح میں ڈھالیں گے رخ شام ہمیں دو

ہم صبح میں ڈھالیں گے رخِ شام ہمیں دو
بے نور ہے، آئینۂ ایام ہمیں دو
اشکوں کو تبسم کا چلن ہم نے سکھایا
شائستگئ ضبط کا انعام ہمیں دو
ہم پیار کی خاطر رسن و دار تک آئے
الزام جو دینا ہو، وہ الزام ہمیں دو

Tuesday, 25 August 2015

گہرے کچھ اور ہو کے رہے زندگی کے زخم

گہرے کچھ اور ہو کے رہے زندگی کے زخم
خود آدمی نے چھیل دیئے، آدمی کے زخم
پھر بھی نہ مطمئن ہوئی تہذیبِ آستاں
ہم نے جبیں پہ ڈال دیئے بندگی کے زخم
پھر سے سجا رہے ہیں اندھیروں کی انجمن
وہ تیرہ بخت جن کو ملے روشنی کے زخم

دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہے

دنیا سببِ شورشِ غم پوچھ رہی ہے
اِک مہرِ خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہے
کچھ اور زیادہ اثرِ تشنہ لبی ہے
جب سے تری آنکھوں چھلکتی ہوئی پی ہے
اس جبر کا اے اہلِ جہاں! نام کوئی ہے؟
کلفت میں بھی آرام ہے غم میں بھی خوشی ہے

جو گھر بھی ہے ہم صورت مقتل ہے ذرا چل

جو گھر بھی ہے ہم صورتِ مقتل ہے ذرا چل
کھٹکائیں شہیدوں کے دریچوں کو ہوا چل
اک دوڑ میں ہر منظر ہستی ہے چلا چل
چلنے کی سکت جتنی ہے، اس سے بھی سوا چل
ہو مصلحت آمیز کہ نا مصلحت آمیز
جیسا بھی ہو، ہر رنگ تعلق کو نبھا چل