Wednesday, 29 July 2026

عکاسی کریں دونوں کے حصے میں نہیں ہیں

 عکاسی کریں دونوں کے حصے میں نہیں ہیں

آئینے میں وصف ہے شیشے میں نہیں ہیں

یہ ہو ہی نہیں سکتا کوئی میری طرف آئے

وہ راستہ ہوں جو کسی نقشے میں نہیں ہیں

میں جان گیا ہوں تری دنیا کی حقیقت

یہ بھیڑیا اب بھیڑ کے پردے میں نہیں ہیں

وہ ہم کو سکھائے گا سُر اور تال کی بندش

جس کا کوئی مصرع بھی کسی لے میں نہیں ہیں

ممکن ہے کوئی بات سلیقے سے نہ کی ہو

پر غصہ تو بالکل مِرے لہجے میں نہیں ہیں


گوتم ملتانی

No comments:

Post a Comment