عکاسی کریں دونوں کے حصے میں نہیں ہیں
آئینے میں وصف ہے شیشے میں نہیں ہیں
یہ ہو ہی نہیں سکتا کوئی میری طرف آئے
وہ راستہ ہوں جو کسی نقشے میں نہیں ہیں
میں جان گیا ہوں تری دنیا کی حقیقت
یہ بھیڑیا اب بھیڑ کے پردے میں نہیں ہیں
وہ ہم کو سکھائے گا سُر اور تال کی بندش
جس کا کوئی مصرع بھی کسی لے میں نہیں ہیں
ممکن ہے کوئی بات سلیقے سے نہ کی ہو
پر غصہ تو بالکل مِرے لہجے میں نہیں ہیں
گوتم ملتانی
No comments:
Post a Comment