Tuesday, 28 July 2026

امید کے چراغ سب بجھا کے ہم رکے نہیں

 اُمید کے چراغ سب بُجھا کے ہم رُکے نہیں

یوں عشق میں بساطِ جاں گنوا کے ہم رکے نہیں

تمہارا وصل کھینچ کر تو لا سکے نہ زندگی 

تمہارے ہِجر کو گلے لگا کے ہم رکے نہیں

سوال اور جواب کے، عذاب سے رِہا ہوئے

ورق ورق کتابِ جاں جلا کے ہم رکے نہیں 

یہ فلسفے وجُود کے، قیام کے، سجُود کے 

خیالِ ہست و بُود سے مِٹا کے ہم رکے نہیں 

مگن تھے باغِ وصل میں سو ایک روز یُوں ہُوا

کہ پھُول اور ببُول سب اُٹھا کے ہم رکے نہیں


ہدایت سائر

No comments:

Post a Comment