مریدو یہ مُٹاپا دِیدنی ہے شیخِ کامِل کا
خُدا معلوم کھاتے ہیں یہ آٹا کون سے مِل کا
رہا مصروف پھر بھی رات بھر اختر شماری میں
اثر اُلٹا ہوا اے ڈاکٹر! مجھ پر تِری پِل کا
حیاتِ نو مبارک، اپنا ماضی یاد کر لیلیٰ
تِری موٹر کا شوفر، سارباں تھا تیری محمل کا
ذرا فُرصت نہیں ملتی مجھے مچھلی پکڑنے سے
ہے بحرِ حُسن اگر کالج، تو میں بگلا ہوں ساحل کا
کسی دن دیکھ لے کوئی قبا اس کی اُتروا کر
یہ مُلا آدمی نکلے، اُتر جائے اگر چھلکا
خُدا محفوظ رکھے، یہ مرض ہے دائمی ہاشم
مگر جُوتا مداوا پھر بھی ہے، بیمارئ دل کا
ہاشم عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment