یہ جھوٹ ہے کہ تم سے محبت نہیں مجھے
لیکن غمِ معاش سے فرصت نہیں مجھے
میں ہوں مشینی دور کا مصروف آدمی
خود سے بھی بات کرنے کی مہلت نہیں مجھے
یہ زندگی ہے صبح کے اخبار کی طرح
دن بھر کے بعد جس کی ضرورت نہیں مجھے
کل ایک شخص کار سے ٹکرا کے مر گیا
یہ حادثہ بھی باعثِ حیرت نہیں مجھے
اے ریڈیو! سنبھل کے سنا میر کی غزل
کمزور دل ہوں تابِ سماعت نہیں مجھے
میں کیف عصرِ نو کا پرستار ہوں مگر
ماضی کی خوبیوں سے بھی نفرت نہیں مجھے
کیف احمد صدیقی
احتشام علی صدیقی
No comments:
Post a Comment