جوان موسم تھا ہم نے یہ دل کسی کے آنگن میں رکھ دیا تھا
یہ دل کے نازک معاملے ہیں ہمارا اس میں قصور کیا تھا
بچھڑ کے مجھ سے وہ مطمئن ہے یہ ساری جھوٹی کہانیاں ہیں
میں جب بھی گزرا تھا اس گلی سے تو وہ دریچہ کُھلا ہوا تھا
خدا گواہ کہ مہ رخوں سے کبھی تقاضے کیے نہ شکوے
وفائیں کرنا، دعائیں دینا ہی ہم فقیروں کا مدعا تھا
مِری تباہی کے سارے قصّے زباں زدِ خاص و عام ہوتے
میں تیری رسوائیوں کے ڈر سے تباہ ہو کر بھی ہنس رہا تھا
عداوتوں کے چلن پہ اس کو کبھی نہ شرمندگی ہوئی تھی
مگر مجھے یہ خیال ہر دم کہ وہ کبھی یار آشنا تھا
میں دشتِ فرقت میں جل رہا ہوں تجھے مبارک وصال لمحے
تِرے نصیبوں میں گہری نیندیں مِرے مقدر میں رتجگا تھا
میں انجمن میں سنانے آیا جب اپنے لٹنے کی داستاں تو
کمال یہ ہے کہ میرا قاتل بھی داستاں سن کے رو پڑا تھا
بدل چکا ہے تُو کتنا اب تو، مگر میں اب بھی وہی قمرؔ ہوں
تمام باتیں بھلانے والے تُو میرے دکھ درد بانٹتا تھا
ادریس قمر
No comments:
Post a Comment