Wednesday, 15 July 2026

وفائیں کرنا دعائیں دینا ہی ہم فقیروں کا مدعا تھا

 جوان موسم تھا ہم نے یہ دل کسی کے آنگن میں رکھ دیا تھا

یہ دل کے نازک معاملے ہیں ہمارا اس میں قصور کیا تھا

بچھڑ کے مجھ سے وہ مطمئن ہے یہ ساری جھوٹی کہانیاں ہیں

میں جب بھی گزرا تھا اس گلی سے تو وہ دریچہ کُھلا ہوا تھا

خدا گواہ کہ مہ رخوں سے کبھی تقاضے کیے نہ شکوے

وفائیں کرنا، دعائیں دینا ہی ہم فقیروں کا مدعا تھا

مِری تباہی کے سارے قصّے زباں زدِ خاص و عام ہوتے

میں تیری رسوائیوں کے ڈر سے تباہ ہو کر بھی ہنس رہا تھا

عداوتوں کے چلن پہ اس کو کبھی نہ شرمندگی ہوئی تھی

مگر مجھے یہ خیال ہر دم کہ وہ کبھی یار آشنا تھا

میں دشتِ فرقت میں جل رہا ہوں تجھے مبارک وصال لمحے

تِرے نصیبوں میں گہری نیندیں مِرے مقدر میں رتجگا تھا

میں انجمن میں سنانے آیا جب اپنے لٹنے کی داستاں تو

کمال یہ ہے کہ میرا قاتل بھی داستاں سن کے رو پڑا تھا

بدل چکا ہے تُو کتنا اب تو، مگر میں اب بھی وہی قمرؔ ہوں

تمام باتیں بھلانے والے تُو میرے دکھ درد بانٹتا تھا


ادریس قمر

No comments:

Post a Comment