Wednesday, 15 July 2026

یوں تو معلوم نہیں کیا ہے حقیقت اپنی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یوں تو معلوم نہیں کیا ہے حقیقت اپنی

مُستند ہے درِ حسّان سے نسبت اپنی

کوئی پُوچھے تو حوالہ تِرا دے دیتے ہیں

یوں تِرے نام سے ہو جاتی ہے عزت اپنی

نعت ہو، شعر ہو، نغمہ ہو، ثنا خوانی ہو

ان تک آواز تو پہنچے کسی صُورت اپنی

مِرا لہجہ،۔ مِری آواز انہیں بھا جائے

اے خدا تُو ہی دِکھا دے کوئی قدرت ایسی

خود کو کہتے ہو غلامِ شہِ بطحاﷺ اسرار

جاؤ آئینے میں دیکھو ذرا صُورت اپنی


اسرار احمد

No comments:

Post a Comment