Saturday, 4 July 2026

دور صحرا کی کڑی دھوپ میں چھاؤں جیسا

 دُور صحرا کی کڑی دُھوپ میں چھاؤں جیسا

وہ تو لگتا تھا مجھے میری دُعاؤں جیسا

اِک ریاست تھی میرے پاس نوابوں جیسی

اب تِرے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا

اب اُسے ڈُھونڈتا پھرتا ہوں بیابانوں میں

جو میرے پاس سے گُزرا تھا ہواؤں جیسا

تُو نہ تھا پاس تو رُوٹھی تھیں بہاریں مجھ سے

جیسے موسم ہو میرے ساتھ خزاؤں جیسا

رُخِ روشن سے نکلتی تھیں شعائیں ہر دم

اس کی زُلفوں میں نظارہ تھا گھٹاؤں جیسا


اویس الحسن

No comments:

Post a Comment