زعفرانی غزل
"دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا"
میری خاطر، ہیر کے چاچے سے ٹکراویں گے کیا
گنج زخمی ہے مگر ناخن بھی چھوٹے ہیں ابھی
"زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا"
صاف کیوں آتی نہیں آواز موبی لنک پر
"ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے، کیا؟"