Showing posts with label عرفان قادر. Show all posts
Showing posts with label عرفان قادر. Show all posts

Friday, 19 April 2024

میری خاطر ہیر کے چاچے سے ٹکراویں گے کیا

 زعفرانی غزل


"دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا"

میری خاطر، ہیر کے چاچے سے ٹکراویں گے کیا

گنج زخمی ہے مگر ناخن بھی چھوٹے ہیں ابھی

"زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا"

صاف کیوں آتی نہیں آواز موبی لنک پر

"ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے، کیا؟"

Saturday, 6 January 2024

سونی ہو یا ایل جی ہو یا ہائیر یا ہٹاچی

 زعفرانی غزل


سونی ہو یا ایل جی ہو، یا ہائیر یا ہٹاچی

بِن ٹی وی کے زندہ نہیں رہ سکتی ہے چاچی

مقدور کہاں روز مِلن ہیر سے میرا

میں گُلشنِ معمار میں، وہ مائی کُلاچی

مانا کہ نہیں کوئی بھی کَل اونٹ کی سِیدھی

پر یاد رہے، اتنی بھی سیدھی نہیں ڈاچی

Sunday, 31 December 2023

اہل خانہ ہیر کے تھے کس لیے تھانے گئے

 زعفرانی غزل


اہلِ خانہ ہیر کے، تھے کس لیے تھانے گئے؟

بھینس چوری کیس میں رانجھے کو پھنسوانے گئے

بے تُکے اشعار سُن کر خُون تو کھولا بہت

"لیکن اتنا تو ہُوا کچھ لوگ پہچانے گئے"

ہاتھ رکھتے تھے بہت ہلکا کبھی افطار میں

آہ لیکن اس برس، ہم بھی ہیں رمضانے گئے

Wednesday, 6 December 2023

وبا زن مریدی کی پھیلی ہے جاری شفا کی تلاش

 وبا زن مریدی کی پھیلی، ہے جاری شفا کی تلاش

ہے تشخیص آسان، سب کر رہے ہیں دوا کی تلاش

پرندوں میں اور پیٹؤوں میں یہی قدر ہے مُشترک

کہ دونوں کو ہے صُبح سے شام تک بس غذا کی تلاش

مِرا مشورہ مان لو؛ اور فوراً رچا لو بیاہ

اگر ہے تمہیں ایک انسائیکلوپیڈیا کی تلاش

Monday, 4 December 2023

باس طاقت کے نشے میں جس کا بھی نمرود ہے

 باس طاقت کے نشے میں جس کا بھی نمرُود ہے

ایک مچھر کی اُسے خدمت ابھی مقصُود ہے

دانت میں کیڑوں نے ہیں کیونکر بنا رکھے پلاٹ

سات پُشتوں سے اگر آبائی گھر امرُود ہے

چار چھ اچھے عمل شاید کیے ہوں گے مگر

قیس جی کی بونگیوں کی لِسٹ لامحدُود ہے

Thursday, 24 December 2020

پڑے ہیں تھپڑ کے ساتھ جوتے بہت زیادہ بلا ارادہ

ہزل 


پڑے ہیں تھپڑ کے ساتھ جوتے بہت زیادہ بِلا ارادہ

کیا ہے رانجھے نے عقدِ ثانی کا جب ارادہ بلا ارادہ

طلب کیا دے کے دھمکیاں آج اس کی بیگم نے سوٹ چونکہ

تبھی ملاتا ہے لال مرچوں میں وہ بُرادہ بلا ارادہ

نہ پوچھ تعداد بالکوں کی، نواسیاں جس کی ہیں نواسی

پچاس پوتوں کا بن گیا ہے وہ آج دادا بلا ارادہ