Showing posts with label نظام رامپوری. Show all posts
Showing posts with label نظام رامپوری. Show all posts

Tuesday, 22 September 2020

ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ

 ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ

ناگن بھی ہے لگی ہوئی رہزن کے ساتھ ساتھ

کس کی کدورتوں سے یہ مٹی خراب ہے

کس کا غبار ہے تِرے دامن کے ساتھ ساتھ

اٹھا تھا منہ چھپائے ہوئے میں ہی صبح کو

جاتا تھا میں ہی رات کو دشمن کے ساتھ ساتھ

خیر یوں ہی سہی تسکیں ہو کہیں تھوڑی سی

 خیر یوں ہی سہی تسکیں ہو کہیں تھوڑی سی

ہاں تو کہتے ہو مگر ساتھ نہیں تھوڑی سی

حال دل سن کے مِرا برسر رحمت تو ہیں کچھ

ابھی باقی ہے مگر چین بہ جبیں تھوڑی سی

ہوئی جاتی ہے سحر ایسا بھی گھبرانا کیا

رات گر ہے بھی تو اے ماہ جبیں تھوڑی سی

Saturday, 25 July 2020

کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے

کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے
بدل کر وضع چھپ کر شب کو آنا یاد آتا ہے
وہ باتیں بھولی بھولی اور وہ شوخی ناز و غمزہ کی
وہ ہنس ہنس کر تِرا مجھ کو رلانا یاد آتا ہے
گلے میں ڈال کر بانہیں وہ لب سے لب ملا دینا
پھر اپنے ہاتھ سے ساغر پلانا یاد آتا ہے

چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دل گیر کے ساتھ

چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھ
خط بھی آیا کبھی تو غیر کی تحریر کے ساتھ
گو کہ اقرار غلط تھا مگر اک تھی تسکین
اب تو انکار ہے کچھ اور ہی تقریر کے ساتھ
دور ایسے نہ کھیچو پاس بھی آؤ گے کبھی
وہ گئے دن جو یہ نالے نہ تھے تاثیر کے ساتھ

Sunday, 19 July 2020

وہ بگڑے ہیں رکے بیٹھے ہیں جھنجلاتے ہیں لڑتے ہیں

وہ بگڑے ہیں رکے بیٹھے ہیں جھنجلاتے ہیں لڑتے ہیں
کبھی ہم جوڑتے ہیں ہاتھ،۔ گاہے پاؤں پڑتے ہیں
گئے ہیں ہوش ایسے، گَر کہیں جانے کو اٹھتا ہوں
تو جاتا ہوں اِدھر کو، اور اُدھر کو پاؤں پڑتے ہیں
جو تم کو اک شکایت ہے تو مجھ کو لاکھ شکوے ہیں
لو آؤ، مل بھی "جاؤ" یہ کہیں قصے "نبڑتے" ہیں

ایسے کو شب وصل لگائے کوئی کیا ہاتھ

ایسے کو شبِ وصل لگائے کوئی کیا ہاتھ؟
"ہر بار جھٹک کر جو کہے "ٹوٹے تِرا ہاتھ
اس بات کے ملنے کی بھی کچھ پائی گئی بات
قاصد تِرے صدقے پہ اگر سچ ہے تو لا ہاتھ
یوں آپ کریں غیر کے شکوے مِرے آگے
"یہ آپ کے "مضمون" نیا آج لگا "ہاتھ

Friday, 11 November 2016

اس کا گلہ نہیں نہ ہو وعدہ وفا نہ ہو

اس کا گلہ نہیں، نہ ہو وعدہ وفا نہ ہو
اتنا تو ہو کہ رشک مجھے غیر کا نہ ہو
انداز اپنا آئینے میں دیکھتے ہیں وہ
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو
اٹکھیلیوں سے چلتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ
مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں، کوئی دیکھتا نہ ہو

ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کی

ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کی
میری سی خدایا نہ ہو تقدیر کسی کی
ناحق میں بگڑ جانے کی عادت یہ غضب ہے
ثابت تو کِیا کیجئے تقصیر کسی کی
قاصد یہ زبانی تِری باتیں تو سنی ہیں
تب جانوں کہ لا دے مجھے تحریر کسی کی

وہ جانتے نہیں مجھے کچھ بھی نظام کیا

وہ جانتے نہیں مجھے کچھ بھی نظامؔ کیا
ہر اک سے سے پوچھتے ہیں کہ اسکا ہے نام کیا
میرے تو ہوش ہی نہیں، قاصد تُو ہی بتا
مضمون اس کو کیا لکھوں، بھیجوں پیام کیا
مجھ کو سنا سنا کے وہ کہنا کسی کا ہائے
جس سے کہ جی میں رنج ہو، اس سے کلام کیا

Sunday, 9 October 2016

نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھے

نہیں سُوجھتا کوئی چارا مجھے 
تمہاری جدائی نے مارا مجھے 
اُدھر آنکھ لڑتی ہے اغیار سے
اِدھر کرتے جانا اشارا مجھے 
تُو اک بار سن لے مِرا حال کچھ
نہ کچھ کہنے دینا دوبارا مجھے 

زیست سے ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہیں

زیست سے ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہیں
عشق کا تیر کھائے بیٹھے ہیں
وہ اشاروں میں ان کا کہنا ہائے
دیکھو اپنے پرائے بیٹھے ہیں 
چشمِ گریاں! یہ کس نے پونچھے اشک
دیکھ تو کون آئے بیٹھے ہیں؟

تنگ آیا ہوں یا خدا توبہ

تنگ آیا ہوں یا خدا! توبہ
دل کا کہنا کروں میں یا توبہ؟
دل میں خواہش ہے ظاہراً، توبہ
دل کا کہنا کروں میں یا توبہ؟
مجھ سے اور الفتِ بتاں چھُوٹے
ایسی باتوں سے ناصحا! توبہ

Tuesday, 9 August 2016

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئیے مسکرا کے ہاتھ
بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں
کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ
یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ

ایسے کو شب وصل لگائے کوئی کیا ہاتھ

ایسے کو شبِ وصل لگائے کوئی کیا ہاتھ
ہر بار جھٹک کر جو کہے ٹوٹے ترا ہاتھ
یوں آپ کریں غیر کے شکوے مرے آگے
یہ آپ کے مضمون نیا آج لگا ہاتھ
اس بات کے ملنے کی بھی کچھ پائی گئی بات
قاصد تِرے صدقے پہ اگر سچ ہے تو لا ہاتھ

وہ نہیں آتا گر نہیں آتا

وہ نہیں آتا گر نہیں آتا
جا کے کیوں نامہ بر نہیں آتا
آپ سے ایسی بے وفائی ہو
یہ یقیں آپ پر نہیں آتا
یاد آتا ہے اس کا جب آنا
ہوش دو دو پہر نہیں آتا