ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ
ناگن بھی ہے لگی ہوئی رہزن کے ساتھ ساتھ
کس کی کدورتوں سے یہ مٹی خراب ہے
کس کا غبار ہے تِرے دامن کے ساتھ ساتھ
اٹھا تھا منہ چھپائے ہوئے میں ہی صبح کو
جاتا تھا میں ہی رات کو دشمن کے ساتھ ساتھ
ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ
ناگن بھی ہے لگی ہوئی رہزن کے ساتھ ساتھ
کس کی کدورتوں سے یہ مٹی خراب ہے
کس کا غبار ہے تِرے دامن کے ساتھ ساتھ
اٹھا تھا منہ چھپائے ہوئے میں ہی صبح کو
جاتا تھا میں ہی رات کو دشمن کے ساتھ ساتھ
خیر یوں ہی سہی تسکیں ہو کہیں تھوڑی سی
ہاں تو کہتے ہو مگر ساتھ نہیں تھوڑی سی
حال دل سن کے مِرا برسر رحمت تو ہیں کچھ
ابھی باقی ہے مگر چین بہ جبیں تھوڑی سی
ہوئی جاتی ہے سحر ایسا بھی گھبرانا کیا
رات گر ہے بھی تو اے ماہ جبیں تھوڑی سی