عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل کو سکوں ہے آپ کے دیدار کے سبب
جاں کو قرار آپ کی گفتار کے سبب
چھائی ہوئی ہیں دھر پہ رحمت کی بدلیاں
واللہ ان کے گیسوئے خمدار کے سبب
ہر تاجور کو تاج میسر ہوا فقط
سلطانِ دوجہاں تری پیزار کے سبب
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل کو سکوں ہے آپ کے دیدار کے سبب
جاں کو قرار آپ کی گفتار کے سبب
چھائی ہوئی ہیں دھر پہ رحمت کی بدلیاں
واللہ ان کے گیسوئے خمدار کے سبب
ہر تاجور کو تاج میسر ہوا فقط
سلطانِ دوجہاں تری پیزار کے سبب
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر ایک سانس مہکتی ہوئی مِری گُزرے
تمہاری یاد میں آقاﷺ یہ زندگی گزرے
فقط گدائی نہیں سر نہادۂ در ہے
خمیدہ سر تِرےؐ کوچے سے خُسروی گزرے
مہ و نجوم میں اب تک ہیں اوج کے چرچے
زمانہ ہو گیا افلاک سے نبیﷺ گزرے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نازاں ہے دل بسا کے محبت رسولﷺ کی
قسمت سے میں نے پائی ہے نسبت رسولؐ کی
مٹ جائے میری چشمِ تمنا کی بے کلی
یا رب کرا دے مجھ کو زیارت رسولؐ کی
پھیلی ہوئی ہیں جلوۂ جاناں کی تابشیں
روشن جہاں ہے دیکھ کے طلعت رسولؐ کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے تخیل! مِدحتِ آقاﷺ کی تعبیرات سوچ
والضحیٰ، واللیل جیسی آج تشبیہات سوچ
باطہارت ہو کے اے دل! پڑھ محبت سے درودؐ
پیش کرنے کے لیے آقاؐ کو کچھ سوغات سوچ
ربِ ھبلی اُمتی کہتا رہا جو ہر گھڑی
اے خِرد! اس رحمتِ عالمؐ کے احسانات سوچ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جھکے بہرِ تعظیم عرشِ علیٰ تک
رسائی اگر ہو تِرے نقشِ پا تک
تُو شاہ اُممؐ، خاتم المُرسلیںؐ ہے
گواہی یہ دیتا ہے کوہِ صفا تک
یہ تیرے وسیلے کا اعزاز دیکھا
اجابت پہنچتی ہے فوراً دعا تک