دید کے قابل کہاں ہے رنگ میخانہ ابھی
خوں نظر آتا ہے پیمانہ پہ پیمانہ ابھی
کون سمجھائے اسے رازِ شکستِ رنگ و بو
اک طلسمِ رنگ و بو میں گم ہے دیوانہ ابھی
مسکرا کر تم نے دیکھا پھول سے کھلنے لگے
عزتِ گلشن ہے اب جو دل تھا ویرانہ ابھی
دید کے قابل کہاں ہے رنگ میخانہ ابھی
خوں نظر آتا ہے پیمانہ پہ پیمانہ ابھی
کون سمجھائے اسے رازِ شکستِ رنگ و بو
اک طلسمِ رنگ و بو میں گم ہے دیوانہ ابھی
مسکرا کر تم نے دیکھا پھول سے کھلنے لگے
عزتِ گلشن ہے اب جو دل تھا ویرانہ ابھی
نہ جواب اچھا ہے، اے دل نہ سوال اچھا ہے
بس وہ جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے
کون سا رنگ ہے جو اس پہ نہیں پھبتا ہے
کیونکہ ہر رنگ میں وہ رنگِ جمال اچھا ہے
جس طرف اٹھتی ہیں دیوانہ بنا دیتی ہیں
آپ کی نظروں میں صاحب یہ کمال اچھا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دو وفا شعاروں کے ہمراہ یوں امام چلے
کہ جیسے تاروں کو لے کر مہِ تمام چلے
یہی تو مالکِ کوثر ہیں بد نصیب فرات
تِرے کنارے سے جو آج تشنہ کام چلے
فضائیں رونے لگیں مل کے سبز گنبد سے
حسینؑ کر کے مدینے کو جب سلام چلے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رسول پاک کی شفقت نہ ہر کسی کو ملی
وہ جس نے گھر کو لٹایا اسی سخی کو ملی
متاعِ زر تو لٹی، اور وہ سبھی کو ملی
غمِ حسینؑ کی نعمت کسی کسی کو ملی
سبھوں کے آقا ہیں مشکل کشا ہیں، مولیٰ ہیں
کہ خاک آپ کے در کی ہر اک ولی کو ملی
دل کا موسم ہے عجب تجھ سے ملاقات کے بعد
جیسے جلتا ہوا جنگل کوئی برسات کے بعد
تلخیٔ ہجر کا افسانہ سنانے کے لیے
کتنی راتیں ہیں ترے قرب کی اک رات کے بعد
پہلی بار آئینہ سچ بول رہا ہو جیسے
اپنی پہچان ہوئی تجھ سے ملاقات کے بعد