دل کا موسم ہے عجب تجھ سے ملاقات کے بعد
جیسے جلتا ہوا جنگل کوئی برسات کے بعد
تلخیٔ ہجر کا افسانہ سنانے کے لیے
کتنی راتیں ہیں ترے قرب کی اک رات کے بعد
پہلی بار آئینہ سچ بول رہا ہو جیسے
اپنی پہچان ہوئی تجھ سے ملاقات کے بعد
ہم تو سمجھے تھے اسے دشمن دل قاتل جاں
کیا کہیں بدلی ہوئی صورت حالات کے بعد
روبرو تیرے زباں پر تو نہ لائے لیکن
ہم نے سوچیں کئی باتیں تری ہر بات کے بعد
دل نے طے کی ہے رفاقت کی یہ منزل تنہا
ہوش تو چھوڑ گیا ساتھ ترے ساتھ کے بعد
نسیم نیازی اکبرآبادی
No comments:
Post a Comment