لامتناہی وقت
وقت آپ کے ہاتھ میں لامتناہی ہے، میرے مالک
آپ کے منٹوں کو گننے والا کوئی نہیں ہے
دن اور راتیں گزرتی ہیں اور عمریں
پھولوں کی طرح کھلتے اور مرجھا جاتے ہیں
تم انتظار کرنا جانتے ہو
تیری صدیاں ایک دوسرے کے پیچھے
لامتناہی وقت
وقت آپ کے ہاتھ میں لامتناہی ہے، میرے مالک
آپ کے منٹوں کو گننے والا کوئی نہیں ہے
دن اور راتیں گزرتی ہیں اور عمریں
پھولوں کی طرح کھلتے اور مرجھا جاتے ہیں
تم انتظار کرنا جانتے ہو
تیری صدیاں ایک دوسرے کے پیچھے
آزادی
خوف سے آزادی ہی آزادی ہے
میں تجھ سے دعویٰ کرتا ہوں میری مادر وطن
عمروں کے بوجھ سے آزادی، سر جھکا کر
آپ کی کمر توڑنا، آپ کی آنکھوں کو اشارے سے اندھا کرنا
مستقبل کی کال؛
نیند کے طوق سے آزادی جس کے ساتھ
تیرے دستِ اختیار میں زمانوں کی کوئی قید نہیں
کوئی نہیں ایسا تیرے لمحوں کا جو حساب رکھے
شب و روز گزرتے ہیں ڈھلتی ہیں عمریں ایسے
جیسے کھلتے ہیں یہ پھول پھر مُرجھائے چلے جاتے ہیں
اک تیری ذات ہے جو انتظار کے ان لمحوں کا
رکھتی ہے علم کہ کیسے گزرنا ہے انہیں
مجھے فراموش نہ کریں
اگر اس زندگی میں آپ سے ملنا میرا حصہ نہیں ہے
تب مجھے کبھی یہ محسوس ہونے دو کہ میں نے تیری نظر چھوڑ دی ہے
مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی نہ بھولیں
مجھے اپنے خوابوں میں اس دکھ کی تکلیف اٹھانے دو
اور میرے بیدار اوقات میں
جیسے جیسے میرے دن اس دنیا کی بھیڑ بازار میں گزرتے ہیں