Showing posts with label سلیم ایوبی. Show all posts
Showing posts with label سلیم ایوبی. Show all posts

Wednesday, 11 June 2025

رسم نبھانے آئیں گے دکھانے کے لیے رو لیں گے

 رسم نبھانے آئیں گے دکھانے کے لیے رو لیں گے

مجھے دفنا کے یہ لوگ اپنی اپنی راہ ہو لیں گے

زندگی بھر تو کسی نے سکون لینے نہیں دیا ہے

اچھا ہے سب کفن اوڑھ کر چین سے سو لیں گے

محبت کرتے وقت ذرا سا بھی یہ احساس نہیں ہوا 

کہ ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے کانٹے بولیں گے

Saturday, 4 January 2025

ڈس رہی ہیں رات دن اب تنہائیاں ہماری

 ڈس رہی ہیں رات دن اب تنہائیاں ہماری

بوجھ لگ رہی ہیں ہمیں پرچھائیاں ہماری

کانوں پہ ہاتھ رکھ کے دور بھاگ رہے ہیں 

ہنسی اڑا رہی ہیں بج بی کے شہنائیاں ہماری 

کسی کا قصور کیا ہے ہم خود ہی سبب ہیں 

برباد کرگئی ہیں ہمیں یہ لاہرواہیاں ہماری

Friday, 18 October 2024

چین مل جاتا ہے میرے دل کو اتنا تو اثر ہوتا ہے

 چین مل جاتا ہے میرے دل کو اتنا تو اثر ہوتا ہے 

جب تیری یادوں کا میرے خیالوں سے گذر ہوتا ہے

رات کٹ جاتی ہے اپنی تیرے حسین خوابوں کے سہارے

رات کب آئےگی ہر دن اسی انتظار میں بسر ہوتا ہے

خدا کرے کہ پتہ چلے یہ کیفیت ایک طرفہ کہ دو طرفہ 

کوئی بتائے جو حال ادھر ہوتا ہے کیا ادھر ہوتا ہے 

Saturday, 12 October 2024

شام غم تھی غم تھے تنہائی تھی

 شامِ غم تھی، غم تھے، تنہائی تھی 

تیری یاد تھی، ہم تھے، تنہائی تھی 

درد میں کھونے کے لیے رونے کےلیے 

آنسو بہت ہی کم تھے، تنہائی تھی

دو بول تسلی کے نصیب نہیں ہو

گھیرے درد کے موسم تھے تنہائی تھی