Showing posts with label تاثیر صدیقی. Show all posts
Showing posts with label تاثیر صدیقی. Show all posts

Thursday, 29 December 2022

تیری وفا کا ہم کو گماں اس قدر ہوا

 تیری وفا کا ہم کو گماں اس قدر ہوا

آیا نظر نہ کچھ بھی دھواں اس قدر ہوا

مل کر بھی ہم تو مل نہیں پائے کسی طرح

دنیا کا ظلم ہم پہ جواں اس قدر ہوا

گھبرا کے دشمنوں کو گلے سے لگا لیا

اپنے ہی دوستوں سے زیاں اس قدر ہوا

Tuesday, 16 November 2021

چلو کے مل کے بدل دیتے ہیں سماجوں کو

 چلو کے مل کے بدل دیتے ہیں سماجوں کو

مٹا دیں سارے زمانے کے بد رواجوں کو

فقط دلوں کو ملانے سے کچھ نہیں ہوتا

بنے گی بات ملاؤ گے جب مزاجوں کو

سروں کی بھیڑ تو اکثر مچائے ہنگامہ

سنوارو سوچ سے تم اپنے احتجاجوں کو

Thursday, 11 November 2021

تھم تھم کے بارشیں اب جلوہ دکھا رہی ہیں

 تھم تھم کے بارشیں اب جلوہ دکھا رہی ہیں

اس پر تمہاری یادیں ہم کو ستا رہی ہیں

دل کس طرح رہے گا آخر ہمارے بس میں

ساون کی بھینی رُت ہے پریاں بھی گا رہی ہیں

بوندیں ہیں یا شجر پر شمعیں ہوئی ہیں روشن

یہ ڈالیاں بھی دیکھو کیا مسکرا رہی ہیں

Sunday, 7 November 2021

لگا کے غوطہ سمندر میں تم گہر ڈھونڈو

 لگا کے غوطہ سمندر میں تم گہر ڈھونڈو

کمال جینے میں ہے جینے کے ہنر ڈھونڈو

مقدروں سے ہی سب کچھ تو مل نہیں سکتا

شجر لگاؤ تو محنت کے پھر ثمر ڈھونڈو

اڑان بھرنے کے ہے واسطے فلک سارا

ہیں بازوؤں میں جو پنہاں وہ بال و پر ڈھونڈو

Saturday, 6 November 2021

رات بھر سوئی تو کبھی جاگی ہوئی آنکھیں

 رات بھر سوئی تو کبھی جاگی ہوئی آنکھیں

ریشمی خوابوں میں لپٹی ہوئی آنکھیں

شب بھر یہ خواب کی مے پیتی رہی

دن کے ہنگاموں سے تھکی ہوئی آنکھیں

کر کے آئی ہیں طویل خلاؤں کا سفر

نیند کے پر لیے اڑتی ہوئی آنکھیں

Saturday, 27 March 2021

دل کو قرار ملتا ہے اکثر چبھن کے بعد

 دل کو قرار ملتا ہے اکثر چبھن کے بعد

نیندیں سہانی آتی ہیں دن کی تھکن کے بعد

بے کار سی جوانی ہے جس پر ستم نہ ہو

شیریں ہوا شجر پہ ثمر بھی تپن کے بعد

آنگن تھا جب تلک یہ نہ دل کو لُبھا سکا

یادیں وطن کی آئی ہیں ترکِ وطن کے بعد