تیری وفا کا ہم کو گماں اس قدر ہوا
آیا نظر نہ کچھ بھی دھواں اس قدر ہوا
مل کر بھی ہم تو مل نہیں پائے کسی طرح
دنیا کا ظلم ہم پہ جواں اس قدر ہوا
گھبرا کے دشمنوں کو گلے سے لگا لیا
اپنے ہی دوستوں سے زیاں اس قدر ہوا
تیری وفا کا ہم کو گماں اس قدر ہوا
آیا نظر نہ کچھ بھی دھواں اس قدر ہوا
مل کر بھی ہم تو مل نہیں پائے کسی طرح
دنیا کا ظلم ہم پہ جواں اس قدر ہوا
گھبرا کے دشمنوں کو گلے سے لگا لیا
اپنے ہی دوستوں سے زیاں اس قدر ہوا
چلو کے مل کے بدل دیتے ہیں سماجوں کو
مٹا دیں سارے زمانے کے بد رواجوں کو
فقط دلوں کو ملانے سے کچھ نہیں ہوتا
بنے گی بات ملاؤ گے جب مزاجوں کو
سروں کی بھیڑ تو اکثر مچائے ہنگامہ
سنوارو سوچ سے تم اپنے احتجاجوں کو
تھم تھم کے بارشیں اب جلوہ دکھا رہی ہیں
اس پر تمہاری یادیں ہم کو ستا رہی ہیں
دل کس طرح رہے گا آخر ہمارے بس میں
ساون کی بھینی رُت ہے پریاں بھی گا رہی ہیں
بوندیں ہیں یا شجر پر شمعیں ہوئی ہیں روشن
یہ ڈالیاں بھی دیکھو کیا مسکرا رہی ہیں
لگا کے غوطہ سمندر میں تم گہر ڈھونڈو
کمال جینے میں ہے جینے کے ہنر ڈھونڈو
مقدروں سے ہی سب کچھ تو مل نہیں سکتا
شجر لگاؤ تو محنت کے پھر ثمر ڈھونڈو
اڑان بھرنے کے ہے واسطے فلک سارا
ہیں بازوؤں میں جو پنہاں وہ بال و پر ڈھونڈو
رات بھر سوئی تو کبھی جاگی ہوئی آنکھیں
ریشمی خوابوں میں لپٹی ہوئی آنکھیں
شب بھر یہ خواب کی مے پیتی رہی
دن کے ہنگاموں سے تھکی ہوئی آنکھیں
کر کے آئی ہیں طویل خلاؤں کا سفر
نیند کے پر لیے اڑتی ہوئی آنکھیں
دل کو قرار ملتا ہے اکثر چبھن کے بعد
نیندیں سہانی آتی ہیں دن کی تھکن کے بعد
بے کار سی جوانی ہے جس پر ستم نہ ہو
شیریں ہوا شجر پہ ثمر بھی تپن کے بعد
آنگن تھا جب تلک یہ نہ دل کو لُبھا سکا
یادیں وطن کی آئی ہیں ترکِ وطن کے بعد