بس یہی سوچ کے دوبارہ محبت نہیں کی
عمر بھر اس نے مِرے شہر سے ہجرت نہیں کی
فاسق و فاجر و غدار کہا جاتا ہے
جرم اتنا ہے کہ ظالم کی اطاعت نہیں کی
میرے مولا یہ در و بام سلامت رکھنا
میں نے اس بار قبیلے کی حمایت نہیں کی
بس یہی سوچ کے دوبارہ محبت نہیں کی
عمر بھر اس نے مِرے شہر سے ہجرت نہیں کی
فاسق و فاجر و غدار کہا جاتا ہے
جرم اتنا ہے کہ ظالم کی اطاعت نہیں کی
میرے مولا یہ در و بام سلامت رکھنا
میں نے اس بار قبیلے کی حمایت نہیں کی
طرح طرح کے نظاروں میں دل نہیں لگتا
تجھے گنوا کے بہاروں میں دل نہیں لگتا
وہی نگر، وہی احباب ہیں، وہی محفل
نہ جانے کیوں مِرا یاروں میں دل نہیں لگتا
میں موج موج، تجھے دشت دشت ڈھونڈوں گا
مِرا اب اپنے کناروں میں دل نہیں لگتا
اپنی دہلیز پہ گُل دان برابر رکھے
پھر تِرے آنے کے امکان برابر رکھے
وہ مجھے چھوڑ گیا رنج نہیں، رنج ہے یہ
اُس نے باندھے ہوئے پیمان برابر رکھے
لوگ اب نام و نسب نام و نسب کرتے ہیں
خالقِ ہست نے انسان برابر رکھے
تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں
نشاں مٹا کے یہ رستہ تلاش کرتا ہوں
عجیب آدمی ہوں ہر نئے تعلق میں
وفا کا رنگ پُرانا تلاش کرتا ہوں
میں دشتِ ہجر میں پھرتا ہوں اپنی پیاس کے ساتھ
تِرے وصال کا چشمہ تلاش کرتا ہوں
غموں کی دھوپ میں اِک سائبان ہے میرا
میں اک زمین ہوں تُو آسمان ہے میرا
یہیں کہیں سے ابھی کوئی تِیر آئے گا
یہیں کہیں پہ کوئی مہربان ہے میرا
اُتر چکا ہے تِرا ہجر میری رگ رگ میں
وصالِ یار! یہ دُکھ جاوِدان ہے میرا