Showing posts with label ساحل سلہری. Show all posts
Showing posts with label ساحل سلہری. Show all posts

Wednesday, 28 June 2023

بس یہی سوچ کے دوبارہ محبت نہیں کی

 بس یہی سوچ کے دوبارہ محبت نہیں کی

عمر بھر اس نے مِرے شہر سے ہجرت نہیں کی

فاسق و فاجر و غدار کہا جاتا ہے

جرم اتنا ہے کہ ظالم کی اطاعت نہیں کی

میرے مولا یہ در و بام سلامت رکھنا

میں نے اس بار قبیلے کی حمایت نہیں کی

Friday, 2 June 2023

طرح طرح کے نظاروں میں دل نہیں لگتا

 طرح طرح کے نظاروں میں دل نہیں لگتا

تجھے گنوا کے بہاروں میں دل نہیں لگتا

وہی نگر، وہی احباب ہیں، وہی محفل

نہ جانے کیوں مِرا یاروں میں دل نہیں لگتا

میں موج موج، تجھے دشت دشت ڈھونڈوں گا

مِرا اب اپنے کناروں میں دل نہیں لگتا

Thursday, 25 May 2023

اپنی دہلیز پہ گلدان برابر رکھے

 اپنی دہلیز پہ گُل دان برابر رکھے

پھر تِرے آنے کے امکان برابر رکھے

وہ مجھے چھوڑ گیا رنج نہیں، رنج ہے یہ

اُس نے باندھے ہوئے پیمان برابر رکھے

لوگ اب نام و نسب نام و نسب کرتے ہیں

خالقِ ہست نے انسان برابر رکھے

Tuesday, 7 March 2023

تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں

تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں

نشاں مٹا کے یہ رستہ تلاش کرتا ہوں

عجیب آدمی ہوں ہر نئے تعلق میں

وفا کا رنگ پُرانا تلاش کرتا ہوں

میں دشتِ ہجر میں پھرتا ہوں اپنی پیاس کے ساتھ

تِرے وصال کا چشمہ تلاش کرتا ہوں

Monday, 28 February 2022

غموں کی دھوپ میں اک سائبان ہے میرا

غموں کی دھوپ میں اِک سائبان ہے میرا

میں اک زمین ہوں تُو آسمان ہے میرا

یہیں کہیں سے ابھی کوئی تِیر آئے گا

یہیں کہیں پہ کوئی مہربان ہے میرا

اُتر چکا ہے تِرا ہجر میری رگ رگ میں

وصالِ یار! یہ دُکھ جاوِدان ہے میرا