یہ سُرمئی آفاق یہ شمعوں کے دُھندلکے
آ جاؤ بھی یادوں کے جھروکوں سے نکل کے
دیوانے چلے آتے ہیں صحرا سے نکل کے
رکھ دیں نہ کہیں نظم گلستاں ہی بدل کے
پھولوں کی طرح ان کی حفاظت ہے ضروری
یہ آج کے بچے ہی بڑے ہوتے ہیں کل کے
یہ سُرمئی آفاق یہ شمعوں کے دُھندلکے
آ جاؤ بھی یادوں کے جھروکوں سے نکل کے
دیوانے چلے آتے ہیں صحرا سے نکل کے
رکھ دیں نہ کہیں نظم گلستاں ہی بدل کے
پھولوں کی طرح ان کی حفاظت ہے ضروری
یہ آج کے بچے ہی بڑے ہوتے ہیں کل کے
زادِ رہ بھی نہیں، بے رختِ سفر جاتے ہیں
سخت حیرت ہے کہ یہ لوگ کدھر جاتے ہیں
بے خودی میں تِرے دیوانے جدھر جاتے ہیں
منزلیں پُوچھتی پھرتی ہیں کدھر جاتے ہیں
ہائے، کس موڑ پہ حالات نے پہنچایا ہے
آپ ہمسائے سے، ہم سایہ سے ڈر جاتے ہیں
سرِ نیاز جھکانا کوئی مذاق نہیں
انائے قلب مٹانا کوئی مذاق نہیں
لبوں پہ آہ بہ ہر حال آ ہی جاتی ہے
جگر کی چوٹ چھپانا کوئی مذاق نہیں
نقوش قلب مٹانے سے مٹ نہیں سکتے
کسی کو دل سے بھلانا کوئی مذاق نہیں
نظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں
بتاؤ یوں بھی کہیں دل ملائے جاتے ہیں
ہجومِ جلوۂ رنگیں کا مدعا معلوم
ہماری تابِ نظر آزمائے جاتے ہیں
حجاب ہو مگر ایسا بھی کیا حجاب آخر
جھلک دکھاتے نہیں منہ چھپائے جاتے ہیں
نظر نے کام کیا دل کے ترجماں کی طرح
نگاہیں کہہ گئی سب حال دل زباں کی طرح
کیے تھے بے خودیٔ شوق میں جہاں سجدے
وہی زمیں نظر آتی ہے آسماں کی طرح
نظر ملی ہے تو پہچان جائے اہلِ چمن
دکھائی دیتے ہیں گلچیں بھی باغباں کی طرح
چاندنی چھٹکی ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے
جل پری پاس کھڑی ہو تو غزل ہوتی ہے
دل نشیں کوئی نظارہ کوئی دلکش منظر
بات دلچسپ کوئی ہو تو غزل ہوتی ہے
یا کسی درد میں ڈوبی ہوئی آوازِ نحیف
یا کوئی چیخ سنی ہو تو غزل ہوتی ہے
وفا کی آس میں دل دے کے پچھتایا نہیں کرتے
یہ نخلِ آرزو ہے، اس میں پھل آیا نہیں کرتے
خیالوں میں جب آتے ہیں تو پہروں جا نہیں پاتے
ہم اب بے وصل تنہائی بھی گھبرایا نہیں کرتے
ہماری نیند سے کیا واسطہ ہے ان کی نیندوں کو
سنا ہے وہ بھی اب آرام فرمایا نہیں کرتے