Showing posts with label ریاست علی تاج. Show all posts
Showing posts with label ریاست علی تاج. Show all posts

Friday, 7 July 2023

یہ سرمئی آفاق یہ شمعوں کے دھندلکے

 یہ سُرمئی آفاق یہ شمعوں کے دُھندلکے

آ جاؤ بھی یادوں کے جھروکوں سے نکل کے

دیوانے چلے آتے ہیں صحرا سے نکل کے

رکھ دیں نہ کہیں نظم گلستاں ہی بدل کے

پھولوں کی طرح ان کی حفاظت ہے ضروری

یہ آج کے بچے ہی بڑے ہوتے ہیں کل کے

Wednesday, 28 June 2023

زاد رہ بھی نہیں بے رخت سفر جاتے ہیں

 زادِ رہ بھی نہیں، بے رختِ سفر جاتے ہیں

سخت حیرت ہے کہ یہ لوگ کدھر جاتے ہیں

بے خودی میں تِرے دیوانے جدھر جاتے ہیں

منزلیں پُوچھتی پھرتی ہیں کدھر جاتے ہیں

ہائے، کس موڑ پہ حالات نے پہنچایا ہے

آپ ہمسائے سے، ہم سایہ سے ڈر جاتے ہیں

Sunday, 2 January 2022

سر نیاز جھکانا کوئی مذاق نہیں

 سرِ نیاز جھکانا کوئی مذاق نہیں

انائے‌ قلب مٹانا کوئی مذاق نہیں

لبوں پہ آہ بہ ہر حال آ ہی جاتی ہے

جگر کی چوٹ چھپانا کوئی مذاق نہیں

نقوش قلب مٹانے سے مٹ نہیں سکتے

کسی کو دل سے بھلانا کوئی مذاق نہیں

Wednesday, 24 November 2021

نظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں

 نظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں

بتاؤ یوں بھی کہیں دل ملائے جاتے ہیں

ہجومِ جلوۂ رنگیں کا مدعا معلوم

ہماری تابِ نظر آزمائے جاتے ہیں

حجاب ہو مگر ایسا بھی کیا حجاب آخر

جھلک دکھاتے نہیں منہ چھپائے جاتے ہیں

Tuesday, 23 November 2021

نظر نے کام کیا دل کے ترجماں کی طرح

 نظر نے کام کیا دل کے ترجماں کی طرح

نگاہیں کہہ گئی سب حال دل زباں کی طرح

کیے تھے بے خودیٔ شوق میں جہاں سجدے

وہی زمیں نظر آتی ہے آسماں کی طرح

نظر ملی ہے تو پہچان جائے اہلِ چمن

دکھائی دیتے ہیں گلچیں بھی باغباں کی طرح

Saturday, 30 October 2021

چاندنی چھٹکی ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے

 چاندنی چھٹکی ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے

جل پری پاس کھڑی ہو تو غزل ہوتی ہے

دل نشیں کوئی نظارہ کوئی دلکش منظر

بات دلچسپ کوئی ہو تو غزل ہوتی ہے

یا کسی درد میں ڈوبی ہوئی آوازِ نحیف

یا کوئی چیخ سنی ہو تو غزل ہوتی ہے

Thursday, 17 December 2020

وفا کی آس میں دل دے کے پچھتایا نہیں کرتے

 وفا کی آس میں دل دے کے پچھتایا نہیں کرتے

یہ نخلِ آرزو ہے، اس میں پھل آیا نہیں کرتے

خیالوں میں جب آتے ہیں تو پہروں جا نہیں پاتے

ہم اب بے وصل تنہائی بھی گھبرایا نہیں کرتے

ہماری نیند سے کیا واسطہ ہے ان کی نیندوں کو

سنا ہے وہ بھی اب آرام فرمایا نہیں کرتے