وعدے محبتوں کے کچھ ایسے نبھائے ہیں
ہم قتل ہونے کوچۂ قاتل میں آئے ہیں
خوشبو تِرے وصال کی پھیلی ہے چار سُو
کن کن جگہوں پہ تُو نے ٹھکانے بنائے ہیں
آنسو لہو میں ڈوب گئے تو خبر ہوئی
طوفان دل نے درد کے کیا کیا اٹھائے ہیں
وعدے محبتوں کے کچھ ایسے نبھائے ہیں
ہم قتل ہونے کوچۂ قاتل میں آئے ہیں
خوشبو تِرے وصال کی پھیلی ہے چار سُو
کن کن جگہوں پہ تُو نے ٹھکانے بنائے ہیں
آنسو لہو میں ڈوب گئے تو خبر ہوئی
طوفان دل نے درد کے کیا کیا اٹھائے ہیں
کہاں گرفت میں اب ماہ و سال کے موسم
بکھرتے جاتے ہیں تیرے وصال کے موسم
تِرے جواب کے وقفے طویل کتنے ہیں
گزرتے جاتے ہیں میرے سوال کے موسم
ہر ایک پھول کلی کو بُلا رہا ہے قریب
چمن میں آئے ہیں اب کے کمال کے موسم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام حسینی ماہیے
بہتا ہے فرات کہیں
پیاسے ہی مار دئیے
نہیں اس کی نجات کہیں
٭
پانی کی جھیلیں ہیں
قطرہ نہ ان کو ملا
اب لگتی سبیلیں ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام حسینی ماہیے
کیکر پہ پھول ہوا
خون شہیدوں کا
عرشوں پہ قبول ہوا
٭
کسی ہاتھ کی ریکھا ہے
نانا نے خود آ کر
تیرا حال بھی دیکھا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام حسینی ماہیے
باطل سے لڑائی تھی
سانچ کو آنچ نہیں
فتح حق نے پائی تھی
٭
عمروں کا رونا ہے
اپنے اشکوں سے
ہمیں داغ یہ دھونا ہے