Showing posts with label رضیہ اسماعیل. Show all posts
Showing posts with label رضیہ اسماعیل. Show all posts

Wednesday, 4 October 2023

وعدے محبتوں کے کچھ ایسے نبھائے ہیں

 وعدے محبتوں کے کچھ ایسے نبھائے ہیں

ہم قتل ہونے کوچۂ قاتل میں آئے ہیں

خوشبو تِرے وصال کی پھیلی ہے چار سُو

کن کن جگہوں پہ تُو نے ٹھکانے بنائے ہیں

آنسو لہو میں ڈوب گئے تو خبر ہوئی

طوفان دل نے درد کے کیا کیا اٹھائے ہیں

Sunday, 30 July 2023

کہاں گرفت میں اب ماہ و سال کے موسم

 کہاں گرفت میں اب ماہ و سال کے موسم

بکھرتے جاتے ہیں تیرے وصال کے موسم

تِرے جواب کے وقفے طویل کتنے ہیں

گزرتے جاتے ہیں میرے سوال کے موسم

ہر ایک پھول کلی کو بُلا رہا ہے قریب

چمن میں آئے ہیں اب کے کمال کے موسم

Friday, 28 July 2023

بہتا ہے فرات کہیں پیاسے ہی مار دئیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام حسینی ماہیے


بہتا ہے فرات کہیں

پیاسے ہی مار دئیے

نہیں اس کی نجات کہیں

٭

پانی کی جھیلیں ہیں

قطرہ نہ ان کو ملا

اب لگتی سبیلیں ہیں

خون شہیدوں کا عرشوں پہ قبول ہوا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام حسینی ماہیے


کیکر پہ پھول ہوا

خون شہیدوں کا

عرشوں پہ قبول ہوا

٭

کسی ہاتھ کی ریکھا ہے

نانا نے خود آ کر

تیرا حال بھی دیکھا ہے

Thursday, 27 July 2023

باطل سے لڑائی تھی فتح حق نے پائی تھی

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام حسینی ماہیے


باطل سے لڑائی تھی

سانچ کو آنچ نہیں

فتح حق نے پائی تھی

٭

عمروں کا رونا ہے

اپنے اشکوں سے

ہمیں داغ یہ دھونا ہے