کہنے آئے تھے کچھ کہا ہی نہیں
چل دئیے جیسے کچھ سنا ہی نہیں
اس قدر ظلم ابنِ آدم پر
جیسے اس کا کوئی خدا ہی نہیں
ہم جما کر نگاہ بیٹھے ہیں
اپنی قسمت کا در کھُلا ہی نہیں
کہنے آئے تھے کچھ کہا ہی نہیں
چل دئیے جیسے کچھ سنا ہی نہیں
اس قدر ظلم ابنِ آدم پر
جیسے اس کا کوئی خدا ہی نہیں
ہم جما کر نگاہ بیٹھے ہیں
اپنی قسمت کا در کھُلا ہی نہیں
ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا
وقت بے وقت جو آیا ہے چلا جائے گا
شہر کو سارے جلانے کے لیے نکلا تھا
اب جو گھر میرا جلایا ہے چلا جائے گا
بیٹھنا ہے تو گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھو
یہ تو دیوار کا سایا ہے، چلا جائے گا
ہو گئی اپنوں کی ظاہر دشمنی اچھا ہوا
چھوڑ دی ہم نے بھی ان کی دوستی اچھا ہوا
بچ گئے اپنوں کے ہر مشق ستم سے شکر ہے
دوستوں نے ہم کو سمجھا اجنبی اچھا ہوا
جس کو جینے کا ذرا سا بھی نہیں تھا حوصلہ
ڈر کے غم سے مر گیا وہ آدمی اچھا ہوا
کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے
یہ سارا کھیل ظالم وقت کا ہے
وہ سر کرتے ہیں جن کو حوصلہ ہے
وگرنہ زندگی اک مرحلہ ہے
تجھے معلوم کیا ہے لذت غم
تِرا دل عشق سے نا آشنا ہے
سنو! کچھ دیدۂ نم بولتے ہیں
جو چپ تھے آج وہ غم بولتے ہیں
کہو سانسوں میں ہے آواز کس کی
یہ تم کہتے ہو یا ہم بولتے ہیں
تمہارے حسن کی خوشبو گلوں میں
تمہارا نام موسم بولتے ہیں