Showing posts with label اصغر ویلوری. Show all posts
Showing posts with label اصغر ویلوری. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

کہنے آئے تھے کچھ کہا ہی نہیں

 کہنے آئے تھے کچھ کہا ہی نہیں

چل دئیے جیسے کچھ سنا ہی نہیں

اس قدر ظلم ابنِ آدم پر

جیسے اس کا کوئی خدا ہی نہیں

ہم جما کر نگاہ بیٹھے ہیں

اپنی قسمت کا در کھُلا ہی نہیں

Tuesday, 13 April 2021

ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا

 ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا

وقت بے وقت جو آیا ہے چلا جائے گا

شہر کو سارے جلانے کے لیے نکلا تھا

اب جو گھر میرا جلایا ہے چلا جائے گا

بیٹھنا ہے تو گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھو

یہ تو دیوار کا سایا ہے، چلا جائے گا

Saturday, 10 April 2021

ہو گئی اپنوں کی ظاہر دشمنی اچھا ہوا

 ہو گئی اپنوں کی ظاہر دشمنی اچھا ہوا

چھوڑ دی ہم نے بھی ان کی دوستی اچھا ہوا

بچ گئے اپنوں کے ہر مشق ستم سے شکر ہے

دوستوں نے ہم کو سمجھا اجنبی اچھا ہوا

جس کو جینے کا ذرا سا بھی نہیں تھا حوصلہ

ڈر کے غم سے مر گیا وہ آدمی اچھا ہوا

Friday, 9 April 2021

کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے

 کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے

یہ سارا کھیل ظالم وقت کا ہے

وہ سر کرتے ہیں جن کو حوصلہ ہے

وگرنہ زندگی اک مرحلہ ہے

تجھے معلوم کیا ہے لذت غم

تِرا دل عشق سے نا آشنا ہے

Tuesday, 16 February 2021

سنو کچھ دیدۂ نم بولتے ہیں

 سنو! کچھ دیدۂ نم بولتے ہیں

جو چپ تھے آج وہ غم بولتے ہیں

کہو سانسوں میں ہے آواز کس کی

یہ تم کہتے ہو یا ہم بولتے ہیں

تمہارے حسن کی خوشبو گلوں میں

تمہارا نام موسم بولتے ہیں