Friday, 9 April 2021

کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے

 کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے

یہ سارا کھیل ظالم وقت کا ہے

وہ سر کرتے ہیں جن کو حوصلہ ہے

وگرنہ زندگی اک مرحلہ ہے

تجھے معلوم کیا ہے لذت غم

تِرا دل عشق سے نا آشنا ہے

جو خود واقف نہیں منزل سے اپنی

خدا بخشے ہمارا رہنما ہے

ڈبوئے گا اسے کیا کوئی طوفاں

خدا کشتی کا جس کی ناخدا ہے

چھپاؤں آئینے سے کیا حقیقت

بڑا کم بخت ہے سچ بولتا ہے

فقط اک درمیاں پردہ ہے ورنہ

تِرا میرا ازل سے واسطہ ہے

ملا کر ہاتھ ہم سے فائدہ کیا

وہی اب تک دلوں میں فاصلہ ہے

نظر جاتی نہیں اصغر کسی پر

نظر میں جب سے وہ جلوہ نما ہے


اصغر ویلوری

No comments:

Post a Comment