Friday, 9 April 2021

نیکی بدی کی اب کوئی میزان ہی نہیں

 نیکی بدی کی اب کوئی میزان ہی نہیں

ایماں کی بات یہ ہے کہ ایمان ہی نہیں

اس دور بے ضمیر پہ کیا تبصرہ کروں

لگتا ہے میرے عہد میں انسان ہی نہیں

کیسے رفو کروں میں کہاں سے رفو کروں

دل بھی ہے میرا چاک گریبان ہی نہیں

رودادِ دل بھی ہے یہ غم کائنات بھی

میری غزل نشاط کا سامان ہی نہیں

برکت ہمارے رزق میں آئے گی کس طرح

گھر میں ہمارے جب کوئی مہمان ہی نہیں

لو وہ اذاں سے صبح کی تصدیق ہو گئی

گویا اب اس کے آنے کا امکان ہی نہیں


اشوک ساہنی ساحل

No comments:

Post a Comment