Showing posts with label ایلزبتھ کورین مونا. Show all posts
Showing posts with label ایلزبتھ کورین مونا. Show all posts

Tuesday, 30 November 2021

ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت

 ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت

رات تاریک سہی ایک ستارا☆ ہے بہت

درد اٹھتا ہے جگر میں کسی طوفاں کی طرح

تب تِری یادوں کے دامن کا کنارا ہے بہت

ظلم جس نے کئے وہ شخص بنا ہے منصف

ظلم پر ظلم نے مظلوم کو مارا ہے بہت

Saturday, 30 October 2021

یاد ایک بے رنگ بے مہک مرجھایا ہوا گلاب

 یاد ایک بے رنگ بے مہک

مرجھایا ہوا گلاب

جس کے کانٹوں کی چبھن

باقی رہتی ہے صدا

یاد ماضی کی بنائی ہوئی

ایک دھندلی تصویر

Friday, 22 October 2021

زیست میں غم ہیں ہمسفر پھر بھی

زیست میں غم ہیں ہمسفر پھر بھی

تا اجل کرنا ہے بسر پھر بھی

ٹُوٹی پُھوٹی ہوں چاہے دیواریں

اپنا گھر تو ہے اپنا گھر پھر بھی

چاہے انکار ہم کریں سچ کا

ہووے ہے ذہن پر اثر پھر بھی

Sunday, 17 October 2021

میں اس سگریٹ کا ٹکڑا ہوں

 میں اس سگریٹ کا ٹکڑا ہوں

جسے تم نے پیا تھا اپنی خوشی کے لیے

اور اب اپنے جوتے سے

مسل دینا چاہتے ہو

تاکہ اس کی چنگاری آگ نہ لگا دے

تمہارے لکڑی نما وجود کو

چہرے بے شمار چہرے نظر آتے ہیں

 چہرے بے شمار چہرے

نظر آتے ہیں زندگی کی راہوں پر

ناک نقش نہیں ہو بہت مختلف

ان میں سے ایک ہی چہرہ

سب سے حسین لگتا ہے کیوں

جب حقیقت میں ایسا ہے نہیں

Saturday, 16 October 2021

لاش کو دفنانا آسان کام نہیں ہے

 لاش کو دفنانا

آسان کام نہیں ہے

مرنے والے کے احباب کو لگتا ہے

کہ وہ ابھی تک زندہ ہے

اور کسی بھی وقت اٹھ کر

انہیں گلے لگا سکتا ہے

زندگی کے ناٹک میں ایک اداکارہ ہوں میں

 زندگی کے ناٹک میں

ایک اداکارہ ہوں میں

یہ ہو گا المیہ یا رزمیہ

کون بتا سکتا ہے

جب پردہ اٹھتا ہے

مجھے اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے

Sunday, 16 May 2021

خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ

 خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ

تعارف غموں سے ہوا رفتہ رفتہ

تھی چہرے کی رنگت تو نظروں کے آگے

چلا رنگِ دل کا پتہ رفتہ رفتہ

بھلائی کئے جا یقیں رب پہ رکھ کر

وہ دیتا ہے سب کو صِلہ رفتہ رفتہ

Tuesday, 13 April 2021

کتنی دلکش ہوتی ہیں خوش فہمیاں

 بدلتے پہلو


کتنی دلکش ہوتی ہیں خوش فہمیاں

ختم ہونے سے پہلے

بڑے رنگین ہوتے ہیں خواب

بکھرنے سے پہلے

بہت حسین ہوتے ہیں پھول