ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت
رات تاریک سہی ایک ستارا☆ ہے بہت
درد اٹھتا ہے جگر میں کسی طوفاں کی طرح
تب تِری یادوں کے دامن کا کنارا ہے بہت
ظلم جس نے کئے وہ شخص بنا ہے منصف
ظلم پر ظلم نے مظلوم کو مارا ہے بہت
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت
رات تاریک سہی ایک ستارا☆ ہے بہت
درد اٹھتا ہے جگر میں کسی طوفاں کی طرح
تب تِری یادوں کے دامن کا کنارا ہے بہت
ظلم جس نے کئے وہ شخص بنا ہے منصف
ظلم پر ظلم نے مظلوم کو مارا ہے بہت
یاد ایک بے رنگ بے مہک
مرجھایا ہوا گلاب
جس کے کانٹوں کی چبھن
باقی رہتی ہے صدا
یاد ماضی کی بنائی ہوئی
ایک دھندلی تصویر
زیست میں غم ہیں ہمسفر پھر بھی
تا اجل کرنا ہے بسر پھر بھی
ٹُوٹی پُھوٹی ہوں چاہے دیواریں
اپنا گھر تو ہے اپنا گھر پھر بھی
چاہے انکار ہم کریں سچ کا
ہووے ہے ذہن پر اثر پھر بھی
میں اس سگریٹ کا ٹکڑا ہوں
جسے تم نے پیا تھا اپنی خوشی کے لیے
اور اب اپنے جوتے سے
مسل دینا چاہتے ہو
تاکہ اس کی چنگاری آگ نہ لگا دے
تمہارے لکڑی نما وجود کو
چہرے بے شمار چہرے
نظر آتے ہیں زندگی کی راہوں پر
ناک نقش نہیں ہو بہت مختلف
ان میں سے ایک ہی چہرہ
سب سے حسین لگتا ہے کیوں
جب حقیقت میں ایسا ہے نہیں
لاش کو دفنانا
آسان کام نہیں ہے
مرنے والے کے احباب کو لگتا ہے
کہ وہ ابھی تک زندہ ہے
اور کسی بھی وقت اٹھ کر
انہیں گلے لگا سکتا ہے
زندگی کے ناٹک میں
ایک اداکارہ ہوں میں
یہ ہو گا المیہ یا رزمیہ
کون بتا سکتا ہے
جب پردہ اٹھتا ہے
مجھے اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے
خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ
تعارف غموں سے ہوا رفتہ رفتہ
تھی چہرے کی رنگت تو نظروں کے آگے
چلا رنگِ دل کا پتہ رفتہ رفتہ
بھلائی کئے جا یقیں رب پہ رکھ کر
وہ دیتا ہے سب کو صِلہ رفتہ رفتہ
بدلتے پہلو
کتنی دلکش ہوتی ہیں خوش فہمیاں
ختم ہونے سے پہلے
بڑے رنگین ہوتے ہیں خواب
بکھرنے سے پہلے
بہت حسین ہوتے ہیں پھول