Showing posts with label شوکت عابد. Show all posts
Showing posts with label شوکت عابد. Show all posts

Tuesday, 5 May 2026

ہوئی ہے اگر ابتدا مختلف

 ہوئی ہے اگر ابتداء مختلف

نہ کیوں ہو مِری انتہا مختلف

کئی راستے تھے مرے سامنے

چُنا میں نے اک راستہ مختلف

میں سمتِ مخالف سے آیا جہاں

بنانی تھی مجھ کو جگہ مختلف

Tuesday, 10 June 2025

اک اضطراب جو دل میں بہت چڑھا ہوا ہے

 اک اضطراب جو دل میں بہت چڑھا ہوا ہے

کئی دن سے یہ دریائے دل چڑھا ہوا ہے

نواحِ شہر میں ہر سُو ہے ایک سناٹا

دیارِ دل میں مگر شور سا مچا ہوا ہے

یہ شہر شہرِ نگاراں ہے اس کے پر گھر کا

ہر ایک فرد کئی کا کٹا ہوا ہے

Saturday, 8 June 2024

نہ لرزے مکین و مکاں اس طرح سے

 نہ لرزے مکین و مکاں اس طرح سے

نہ رُوٹھا کبھی آسماں اس طرح سے

نہ اُجڑا کبھی منظرِ خاک ایسا

نہ بکھری کبھی کہکشاں اس طرح سے

نہ تھا شہرِ دانائی ویراں کبھی یوں

نہ تھی بند دل کی دُکاں اس طرح سے

Wednesday, 4 August 2021

کیفیت سیماب کی صورت ملا وہ بھی

کیفیت سیماب کی صُورت مِلا وہ بھی

اک خواب میں اک خواب کی صورت ملا وہ بھی

اس دل کو کہ روشن تھا بہت شعلۂ غم سے

اک آتش نایاب کی صورت ملا وہ بھی

شاداب تھا اک صُبح مسرّت کی طرح میں

اک شام خنک تاب کی صورت ملا وہ بھی