ہوئی ہے اگر ابتداء مختلف
نہ کیوں ہو مِری انتہا مختلف
کئی راستے تھے مرے سامنے
چُنا میں نے اک راستہ مختلف
میں سمتِ مخالف سے آیا جہاں
بنانی تھی مجھ کو جگہ مختلف
ہوئی ہے اگر ابتداء مختلف
نہ کیوں ہو مِری انتہا مختلف
کئی راستے تھے مرے سامنے
چُنا میں نے اک راستہ مختلف
میں سمتِ مخالف سے آیا جہاں
بنانی تھی مجھ کو جگہ مختلف
اک اضطراب جو دل میں بہت چڑھا ہوا ہے
کئی دن سے یہ دریائے دل چڑھا ہوا ہے
نواحِ شہر میں ہر سُو ہے ایک سناٹا
دیارِ دل میں مگر شور سا مچا ہوا ہے
یہ شہر شہرِ نگاراں ہے اس کے پر گھر کا
ہر ایک فرد کئی کا کٹا ہوا ہے
نہ لرزے مکین و مکاں اس طرح سے
نہ رُوٹھا کبھی آسماں اس طرح سے
نہ اُجڑا کبھی منظرِ خاک ایسا
نہ بکھری کبھی کہکشاں اس طرح سے
نہ تھا شہرِ دانائی ویراں کبھی یوں
نہ تھی بند دل کی دُکاں اس طرح سے
کیفیت سیماب کی صُورت مِلا وہ بھی
اک خواب میں اک خواب کی صورت ملا وہ بھی
اس دل کو کہ روشن تھا بہت شعلۂ غم سے
اک آتش نایاب کی صورت ملا وہ بھی
شاداب تھا اک صُبح مسرّت کی طرح میں
اک شام خنک تاب کی صورت ملا وہ بھی