کیفیت سیماب کی صُورت مِلا وہ بھی
اک خواب میں اک خواب کی صورت ملا وہ بھی
اس دل کو کہ روشن تھا بہت شعلۂ غم سے
اک آتش نایاب کی صورت ملا وہ بھی
شاداب تھا اک صُبح مسرّت کی طرح میں
اک شام خنک تاب کی صورت ملا وہ بھی
اک خواہش شب خیز کے زینے سے اُتر کر
مہتاب سے مہتاب کی صورت ملا وہ بھی
شوکت عابد
No comments:
Post a Comment