Showing posts with label عنبر عابد. Show all posts
Showing posts with label عنبر عابد. Show all posts

Saturday, 28 August 2021

کچھ اس لیے بھی وہ مجھے اچھا بہت لگا

 کچھ اس لیے بھی وہ مجھے اچھا بہت لگا

اس کا ہر ایک عیب تھا تم سا بہت لگا

تیرے بغیر عید تو تھی ہی بے لطف و کیف

تیرے بغیر چاند بھی دُھندلا بہت لگا

ہنس کر اگرچہ ٹال دی میں نے تمہاری بات

دل کو تمہاری بات سے دھکا بہت لگا

Sunday, 25 July 2021

کھردرا گرچہ اس کا لہجہ تھا

 کھردرا گرچہ اس کا لہجہ تھا

پھر بھی ہر لفظ جان لیوا تھا

اس کو رخصت تو کر دیا لیکن

دل سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا

ایک دریا تھا کربِ پیہم کا

اشک کہنے کو یوں تو قطرہ تھا

Wednesday, 21 July 2021

ہو رنگ شفق جیسے رخ شام میں اترا

 ہو رنگِ شفق جیسے رخِ شام میں اُترا

وہ میری نگاہوں کے در و بام میں اترا

وا ہونے لگے سارے امیدوں کے دریچے

جب تیرا تصور دلِ ناکام میں اترا

جب خونِ جگر گھول دیا ہم نے سخن میں 

تب جا کے کہیں ہے رگِ ہنگام میں اترا 

Tuesday, 20 July 2021

لفظ مل جائیں تو اشعار کی تشکیل کروں

 لفظ مل جائیں تو اشعار کی تشکیل کروں

ورنہ کس طرح خیالات کی ترسیل کروں

حق محبت کا کہاں ہوتا ہے مرنے سے ادا

حق تو یہ ہے کہ تجھے روح میں تحلیل کروں

شب کی تاریکی و وحشت کا تقاضا یہ ہے

ساز و آواز سے روشن کوئی قندیل کروں

Monday, 19 July 2021

ڈھونڈو نہ فقط عیب کے صحرا مرے اندر

 ڈھونڈو نہ فقط عیب کے صحرا مِرے اندر

بہتے ہیں محاسن کے بھی دریا مرے اندر

مسجد مِرے اندر ہے کلیسا مرے اندر

میں ایک ہوں موجود ہے کیا کیا مرے اندر

دنیا کی ہے چاہت تو ہے اللہ کا ڈر بھی

دنیا مرے باہر ہے تو عقبٰی مرے اندر

فیصلہ کوئی مرے حق میں ہوا ہے شاید

 فیصلہ کوئی مِرے حق میں ہوا ہے شاید

موسمِ گل مِرے آنگن میں رکا ہے شاید

مدتوں بعد کیا رابطہ اس نے تو لگا

اس کو احساسِ پشیمانی ہوا ہے شاید

آؤ اک بار کتابوں کو کھنگالا جائے

پھول جو اس نے دیا تھا وہ رکھا ہے شاید