کچھ اس لیے بھی وہ مجھے اچھا بہت لگا
اس کا ہر ایک عیب تھا تم سا بہت لگا
تیرے بغیر عید تو تھی ہی بے لطف و کیف
تیرے بغیر چاند بھی دُھندلا بہت لگا
ہنس کر اگرچہ ٹال دی میں نے تمہاری بات
دل کو تمہاری بات سے دھکا بہت لگا
کچھ اس لیے بھی وہ مجھے اچھا بہت لگا
اس کا ہر ایک عیب تھا تم سا بہت لگا
تیرے بغیر عید تو تھی ہی بے لطف و کیف
تیرے بغیر چاند بھی دُھندلا بہت لگا
ہنس کر اگرچہ ٹال دی میں نے تمہاری بات
دل کو تمہاری بات سے دھکا بہت لگا
کھردرا گرچہ اس کا لہجہ تھا
پھر بھی ہر لفظ جان لیوا تھا
اس کو رخصت تو کر دیا لیکن
دل سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا
ایک دریا تھا کربِ پیہم کا
اشک کہنے کو یوں تو قطرہ تھا
ہو رنگِ شفق جیسے رخِ شام میں اُترا
وہ میری نگاہوں کے در و بام میں اترا
وا ہونے لگے سارے امیدوں کے دریچے
جب تیرا تصور دلِ ناکام میں اترا
جب خونِ جگر گھول دیا ہم نے سخن میں
تب جا کے کہیں ہے رگِ ہنگام میں اترا
لفظ مل جائیں تو اشعار کی تشکیل کروں
ورنہ کس طرح خیالات کی ترسیل کروں
حق محبت کا کہاں ہوتا ہے مرنے سے ادا
حق تو یہ ہے کہ تجھے روح میں تحلیل کروں
شب کی تاریکی و وحشت کا تقاضا یہ ہے
ساز و آواز سے روشن کوئی قندیل کروں
ڈھونڈو نہ فقط عیب کے صحرا مِرے اندر
بہتے ہیں محاسن کے بھی دریا مرے اندر
مسجد مِرے اندر ہے کلیسا مرے اندر
میں ایک ہوں موجود ہے کیا کیا مرے اندر
دنیا کی ہے چاہت تو ہے اللہ کا ڈر بھی
دنیا مرے باہر ہے تو عقبٰی مرے اندر
فیصلہ کوئی مِرے حق میں ہوا ہے شاید
موسمِ گل مِرے آنگن میں رکا ہے شاید
مدتوں بعد کیا رابطہ اس نے تو لگا
اس کو احساسِ پشیمانی ہوا ہے شاید
آؤ اک بار کتابوں کو کھنگالا جائے
پھول جو اس نے دیا تھا وہ رکھا ہے شاید