Showing posts with label قیصر خالد. Show all posts
Showing posts with label قیصر خالد. Show all posts

Saturday, 14 October 2023

ہم زمیں کا آتشیں ابھار دیکھتے رہے

 ہم زمیں کا آتشیں ابھار دیکھتے رہے

سہمے سہمے سے ہی بس غبار دیکھتے رہے

شہرتیں، یہ دولتیں، یہ مسندیں، ملیں پہ ہم

بے نیاز ہی رہے، ہزار دیکھتے رہے

آخرش زمانہ ان کو چھوڑ آگے بڑھ گیا

ہر قدم جو عزت و وقار دیکھتے رہے

Wednesday, 31 March 2021

حد فاصل تو فقط درد کا صحرا نکلی

 حدِ فاصل تو فقط درد کا صحرا نکلی

چشم افسردگیٔ خشک ہی دریا نکلی

اک ذرا ٹھیس لگی ٹوٹ گئی ہمتِ جاں

آہنی جس کو سمجھتے تھے وہ شیشہ نکلی

روز و شب اک نئی امید نئی سی الجھن

آزمائش جسے سمجھے تھے نتیجہ نکلی

Saturday, 27 March 2021

ڈگمگاتے کبھی قدموں کو سنبھلتے دیکھا

 ڈگمگاتے کبھی قدموں کو سنبھلتے دیکھا

راہِ الفت پہ مگر لوگوں کو چلتے دیکھا

نفرتیں مل گئیں معصوم دلوں میں اکثر

چاہتوں کو دلِ سفاک میں پلتے دیکھا

آزمائش ہے، اجازت ہے کہ مجبوری ہے

ظلم کو ہم نے یہاں پھُولتے پھلتے دیکھا

جاں یوں لباس جسم کو نکلی اتار کر

 جاں یوں لباسِ جسم کو نکلی اُتار کر

جیسے کوئی سرائے میں اک شب گُزار کر

حالات نے لباس تو میلا کیا، مگر

کردار پھر بھی رکھا ہے ہم نے سنوار کر

گر ہو سکے تو دے انہیں اُمید کی کرن

بیٹھے ہوں زندگانی سے اپنی جو ہار کر

Friday, 26 March 2021

اپنی یہی پہچان یہی اپنا پتا ہے

 اپنی یہی پہچان، یہی اپنا پتا ہے

اک عمر سے یہ سر کسی چوکھٹ پہ جھُکا ہے

دروازہ نہیں، بیچ میں دیوار ہے اپنے

اور دستکِ دیوار سے در کم ہی کھُلا ہے

جب جب دل نازک پہ پڑی چوٹ کوئی بھی

کچھ دن تو دُھواں دل سے ہر اک لمحہ اُٹھا ہے

گلیاں ہیں بہت سی ابھی دیوار کے آگے

 گلیاں ہیں بہت سی ابھی دیوار کے آگے

سنسار ملیں گے تجھے سنسار کے آگے

معنی کی نئی شرحیں تھیں ہر بات میں اس کی

اقرار سے پہلے، کبھی انکار کے آگے

تقدیر جسے کہتے ہیں دنیا کے مفکر

زردار کے پیچھے ہے تو نادار کے آگے