ہم زمیں کا آتشیں ابھار دیکھتے رہے
سہمے سہمے سے ہی بس غبار دیکھتے رہے
شہرتیں، یہ دولتیں، یہ مسندیں، ملیں پہ ہم
بے نیاز ہی رہے، ہزار دیکھتے رہے
آخرش زمانہ ان کو چھوڑ آگے بڑھ گیا
ہر قدم جو عزت و وقار دیکھتے رہے
ہم زمیں کا آتشیں ابھار دیکھتے رہے
سہمے سہمے سے ہی بس غبار دیکھتے رہے
شہرتیں، یہ دولتیں، یہ مسندیں، ملیں پہ ہم
بے نیاز ہی رہے، ہزار دیکھتے رہے
آخرش زمانہ ان کو چھوڑ آگے بڑھ گیا
ہر قدم جو عزت و وقار دیکھتے رہے
حدِ فاصل تو فقط درد کا صحرا نکلی
چشم افسردگیٔ خشک ہی دریا نکلی
اک ذرا ٹھیس لگی ٹوٹ گئی ہمتِ جاں
آہنی جس کو سمجھتے تھے وہ شیشہ نکلی
روز و شب اک نئی امید نئی سی الجھن
آزمائش جسے سمجھے تھے نتیجہ نکلی
ڈگمگاتے کبھی قدموں کو سنبھلتے دیکھا
راہِ الفت پہ مگر لوگوں کو چلتے دیکھا
نفرتیں مل گئیں معصوم دلوں میں اکثر
چاہتوں کو دلِ سفاک میں پلتے دیکھا
آزمائش ہے، اجازت ہے کہ مجبوری ہے
ظلم کو ہم نے یہاں پھُولتے پھلتے دیکھا
جاں یوں لباسِ جسم کو نکلی اُتار کر
جیسے کوئی سرائے میں اک شب گُزار کر
حالات نے لباس تو میلا کیا، مگر
کردار پھر بھی رکھا ہے ہم نے سنوار کر
گر ہو سکے تو دے انہیں اُمید کی کرن
بیٹھے ہوں زندگانی سے اپنی جو ہار کر
اپنی یہی پہچان، یہی اپنا پتا ہے
اک عمر سے یہ سر کسی چوکھٹ پہ جھُکا ہے
دروازہ نہیں، بیچ میں دیوار ہے اپنے
اور دستکِ دیوار سے در کم ہی کھُلا ہے
جب جب دل نازک پہ پڑی چوٹ کوئی بھی
کچھ دن تو دُھواں دل سے ہر اک لمحہ اُٹھا ہے
گلیاں ہیں بہت سی ابھی دیوار کے آگے
سنسار ملیں گے تجھے سنسار کے آگے
معنی کی نئی شرحیں تھیں ہر بات میں اس کی
اقرار سے پہلے، کبھی انکار کے آگے
تقدیر جسے کہتے ہیں دنیا کے مفکر
زردار کے پیچھے ہے تو نادار کے آگے